مشتبہ حملہ آور کے طور پر سکھ پیروکار کی تصویر وائرل

Image caption ویریندر اپنی تصویر کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کیے جانے کی غلطی کو سدھارنے میں لگے ہیں

سکھ مذہب سے تعلق رکھنے والا ایک شخص ایک غلطی کو درست کرنے کی کوشش میں ہے جو پیرس حملوں کے بعد سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی تھی۔

ان کی ایک سیلفی کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کر کے اسے پیرس کے ایک مشتبہ حملہ آور کے طور پر پیش کیا گيا تھا۔

بہت سے لوگ جو ویریندر جبّل کی اس تصویر کا استعمال کر رہے تھے انھیں اس بات کا احساس نہیں تھا کہ اس کے ساتھ ڈیجٹل طور چھیڑ چھاڑ ہوئی ہے۔ تصویر کا استعمال کرنے والوں میں صحافی بھی شامل تھے۔

ویریندر کی اصل سیلفی باتھ روم کی ہے جس میں انھوں نے پگڑی پہن رکھی ہے جو سکھ مذہب کا اہم حصہ ہے۔

اب ویریندر اس غلطی کو درست کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

ان کی ڈیجیٹل طور پر چھیڑ چھاڑ کی جانے والی تصویر میں انھوں نے ایک جیکٹ پہن رکھی ہے جو کہ کسی دھماکہ خیز مادے کی پیٹی لگتی ہے اور ہاتھ میں جو آئی پیڈ ہے اسے کسی مذہبی کتاب سے مشابہ بنا دیا گيا ہے۔

اس میں ایک سیکسی کھلونے جیسے چیز بھی شامل کر دی گئی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Other
Image caption ویریندر کا کہنا ہے کہ یہ گیمرگیٹ سے منسلک کسی شخص کی شرارت ہے

ویریندر نے لوگوں سے دریافت کیا ہے کہ کیا ان کی اس تصویر کا ابھی بھی استعمال ہو رہا ہے جس میں ان کی شباہت کسی ’دہشت گرد کی سی بنائی گئی ہے۔

خیال رہے کہ دنیا بھر میں فرانس میں جمعے کو ہونے والے حملے کے پس پشت حملہ آوروں کی تلاش زور و شور سے جاری ہے۔ ان حملوں میں 129 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ بیلجیئم کے شہر برسلز سے تعلق رکھنے والے 26 سالہ صالح عبدالسلام اہم مشتبہ حملہ آور ہیں۔

ویریندر کا کہنا ہے کہ لاکھوں افراد نے ان کی تصویر دیکھی ہے جو انھیں غلط طور پر اسلامی تنظیموں سے منسلک کر سکتے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ وہ ’خراب صورت حال‘ سے دوچار ہیں اور انھیں خدشہ کہ اس تصویر کی وجہ سے کہیں انھیں ’نقصان نہ پہنچے۔‘

اسی بارے میں