بوبی جندل ریپبلکن صدارتی امیدوار کی دوڑ سے باہر

تصویر کے کاپی رائٹ AP

امریکی ریاست لوئزیانا کے گورنر بابی جندل ریپبلکن پارٹی کے صدارتی امیدوار بننے کی دوڑ سے باہر ہوگئے ہیں۔

44 سالہ گورنر قومی رائے شماری میں مسلسل غیر تسلی بخش کارکردگی کا مظاہرہ کرتے رہے ہیں اور ثانوی مراحل کے دوران ہی اہم ریپبلکن مباحثوں میں سے اُن کا ذکر نکل گیا تھا۔

منگل کو دستبرداری کا اعلان کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا ’یہ میرا وقت نہیں ہے۔‘

جندل بھارتی تارکین وطن والدین کی اولاد ہیں لیکن اپنی مہم کے دوران انھوں نے اپنے بھارتی ورثے سے خود کو دُور رکھنے کی کوشش کی۔

جون میں اپنی مہم کے آغاز کے موقع پر اُن کا اپنے حامیوں سے کہنا تھا ’ہم بھارتی نژاد امریکی نہیں، افریقی نژاد امریکی، آئرش امریکی، دولت مند امریکی یا غریب امریکی نہیں بلکہ ہم سب صرف امریکی ہیں۔‘

اپنی ریاست کے خسارے والے بجٹ کے بعد گورنر جندل کی مقبولیت میں کمی آئی تھی اور یہی خیال کیا جا رہا تھا کہ بطور صدارتی امیدوار ان کی نامزدگی کے امکانات روشن نہیں۔

اپنی مہم کے دوران گورنر جیندل نے ہم جنس پرستوں کے حقوق اور اسلامی انتہا پسندی جیسے معاملات پر بات کر کے کٹر عقائد والے عیسائی ووٹرز کی توجہ حاصل کرنے کی کوشش کی تھی۔

تاہم ان کے حریف اُمیدواروں جیسے کہ بین کارسن، ٹیکساس کے سینیٹر ٹیڈ کروز اور آرکنساس کے سابق گورنر مائیک ہیکابی بھی ایسے ہی موضوعات پر ووٹروں کی حمایت حاصل کرنے کے لیے کوشاں تھے۔

گورنر جندل ٹیکساس کے سابق گورنر رِک پیری اور وسکونسن کے گورنر سکاٹ والکر کے ساتھ شامل ہوگئے ہیں جو پہلے ہی اپنی مہم ختم کر چکے ہیں تاہم 14 امیدوار اب بھی ریپبلکن پارٹی کی نامزدگی حاصل کرنے کی دوڑ میں شامل ہیں۔

اسی بارے میں