پیرس کے حملے مغرب کے لیے ’تنبیہ‘ ہیں

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption کرد افواج نے ہی حال ہی میں نام نہاد دولت اسلامیہ کو عراقی شہر سنجار سے باہر دھکیل دیا ہے

عراقی کردستان میں انٹیلی جنس اور سکیورٹی کے سربراہ نے امید ظاہر کی ہے کہ گذشتہ جمعے کو پیرس میں ہونے والے حملے مغربی طاقتوں کو نام نہاد دولت اسلامیہ کے خلاف لڑائی کے بارے میں سنجیدہ ہونے پر مجبور کر دیں گے۔

بی بی سی سے گفتگو میں مسرور برزانی کا کہنا تھا کہ اگر عالمی برادری اس مسئلے کے حل کے لیے صحیح معنوں میں متحرک ہو جائے تو نام نہاد دولت اسلامیہ کو چند مہینوں میں ہی شکست دی جا سکتی ہے۔

ہم دولتِ اسلامیہ کو تباہ کر دیں گے: اولاند

’تہذیبوں کا تصادم نہیں، دولتِ اسلامیہ کے خلاف جنگ ہے‘

کرد افواج نے سنجار سے دولتِ اسلامیہ کا قبضہ چھڑوا لیا

سنجار کے نزدیک واقع کمانڈ ہیڈکوارٹرز میں بی بی سی کے نامہ نگار جِم میور سے بات کرتے ہوئے برزانی نے کہا کہ نقصانات پہنچنے کے باوجود نام نہاد دولت اسلامیہ نمایاں طور پر کمزور نہیں ہوئی ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ وہ امید کرتے ہیں کہ پیرس حملے صورت حال کی تبدیلی کا باعث بنیں گے اور دولتِ اسلامیہ کے مسلح جنگجوؤں کے خلاف لڑائی میں مغربی طاقتیں اپنا کردار بھرپور طریقے سے ادا کرتی نظر آئیں گی۔

یاد رہے کہ پیرس کے حملوں میں 129 افراد ہلاک ہوئے تھے اور ان کی ذمہ داری اس شدت پسند تنظیم نے ہی لی تھی۔

پیرس حملوں کی ذمہ داری نام نہاد دولت اسلامیہ کی جانب سے قبول کرنے کے بعد سے شام میں ان کے ٹھکانوں پر فرانس اور روس کی جانب سے کیے جانے والے حملوں میں شدت آگئی ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ ’یہ کہنا بہت مشکل ہے کہ نام نہاد دولت اسلامیہ کمزور ہوئی ہے۔ ممکن ہے انھیں یہاں وہاں کچھ زیر قبضہ علاقوں سے ہاتھ دھونا پڑا ہو، لیکن وہ شدت پسند ہیں اور ان کا طریقۂ کار مختلف ہوتا ہے۔

’میرے خیال میں یہ ان کی حکمت عملی میں تبدیلی ہے۔ اگر انھیں روکا نہ گیا اور ان پر دباؤ برقرار نہ رکھا گیا تو ممکن ہے کہ وہ ایسے مزید حملے کریں۔‘

برزانی کہتے ہیں کہ اگر مغربی ممالک اپنی فوجیں زمینی حملوں کے لیے نہیں بھیجنا چاہتے تو انھیں چاہیے کہ وہ شام اور عراق میں جنگجوؤں کے خلاف کامیابی حاصل کرنے والی کرد فوج اور دیگر افواج کی امداد میں اضافہ کریں۔

ہمارے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ امریکی زیر قیادت اتحاد کو ایسی قابل بھروسہ زمینی فوج ڈھونڈنے میں دشواری کا سامنا رہا ہے جن کے ساتھ مل کے حملے کیے جا سکیں۔

امریکہ اور اس کے اتحادی گذشتہ ایک سال سے شام اور عراق میں نام نہاد دولت اسلامیہ پر بمباری کر رہے ہیں جبکہ روس نے حال ہی میں ان جنگجوؤں کے خلاف اپنی فضائی مہم کا آغاز کیا ہے۔

اسی بارے میں