یورپ کو پیرس جیسے حملوں کا کتنا خطرہ ہے؟

تصویر کے کاپی رائٹ Getty

جرمنی کے شہر یورپ میں منگل کی شب ایک فٹبال میچ کی منسوخی یورپ میں دہشت گردی کے حالیہ خوف کا تازہ ترین اظہار ہیں۔

حالیہ دنوں میں مصر میں جزیرہ نما سینا، بیروت، بغداد، انقرہ اور پیرس میں حملوں کے بعد ایسا ماحول پیدا کر دیا ہے جس یورپ کے بڑے شہروں میں رہنے والے لوگوں کو یہ خدشہ ہے کہ دہشت گردی سے انھیں نقصان پہنچ سکتا ہے۔

جنگِ عظیم دوم کے بعد پیرس میں بدترین تشدد

پیرس کے حملے مغرب کے لیے ’تنبیہ‘ ہیں

’پیرس جینا نہیں بھولا‘

تاہم حقیقت یہ ہے کہ لوگوں کو روزانہ یورپی شہروں میں دہشت گردی کا نشانہ بننے سے زیادہ اپنی گاڑیاں استعمال کرتے ہوئے خطرہ رہتا ہے۔

اگرچہ موجودہ ماحول میں شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ اور اس کے منسلک تنظیموں کی جانب سے بے قصور افراد کا قتل عام کرنے کے بارے میں خدشات ہیں لیکن حقیقتاً پیرس جیسے واقعات شاذ و نادر ہیں۔

اس کے جواب میں، یورپ کے سکیورٹی ادارے چوکنے رہیں گے اور نیٹ ورکس کو ابتدائی دور میں ہی توڑنے کے لیے حرکت میں آئیں گے۔

یورپی دارالحکومتوں میں دہشت گردی ایسا امر نہیں ہے جو پہلے نہ ہوا ہو۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

11 سمتبر 2001 کو واشنگٹن اور نیویارک میں حملوں کے بعد میڈرڈ، لندن، ماسکو، اوسلو اور اب پیرس کو بڑے پیمانے پر دہشت گردی کا سامنا رہ چکا ہے۔

پھر بھی یہ کارروائیاں معمول کا حصہ نہیں ہیں۔

اس کے مقابلے میں افریقی شہروں میں، ایشیا کے کچھ حصوں میں اور مشرق وسطیٰ میں بہت زیادہ مصیبتیں جھیلی ہیں۔

مغرب میں دہشت گردی کے بڑے منصوبوں کو ناکام بنانا زیادہ معمول کے مطابق ہے خاص طور پر بڑے نیٹ ورکس کی جانب سے بڑے منصوبوں کو۔

صرف برطانیہ میں سات جولائی 2005 میں بمبار 52 لوگوں کو مارنے میں کامیاب ہوسکے، وہ ایک بڑے منصوبے کا حصہ تھے جسے حکام نے ناکام بنا دیا۔ یہ منصوبے القاعدہ سے منسلک تھے اور انھوں نے برطانیہ کو سنہ 2004 اور 2006 کے درمیان نشانہ بنانا تھا۔

حالیہ خدشات کا مرکز ’لون ایکٹر‘ یا کسی دہشت گرد گروہ یا نیٹ ورک سے وابستگی کے بغیر انفرادی طور پر دہشت گردی کی کارروائیوں میں ملوث ہونے کی نئی صورتحال ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption لندن میں سات جولائی 2005 کو بم دھماکے میں 52 افراد ہلاک ہوئے تھے

بعض اوقات افراد کسی شدت پسند گروہ کا حصہ ہوتے ہیں دیگر صورتوں میں وہ نامعلوم ہوتے ہیں جو دہشت گردی کی جانب مائل ہوچکے ہوتے ہیں۔

اس کے باوجود کئی مواقعوں پر ایسے حملے ناکام بنائے گئے، صرف تین بار ایسا ہوا جب وہ کسی شہری کا قتل کر سکے۔ پاولو لیپشن نے برمنگھم میں محمد سلیم کو چاقو کے وار سے قتل کیا تھا، جبکہ مائیکل ایڈیبویل اور مائیکل ایڈیبولاجو نے وولوچ میں وی رگبی کا سرعام سر قلم کیا تھا۔

بہت ساری صورتحال میں افراد حملوں کی کوشش میں صرف خود کو ہی زخمی کرتے ہیں۔

سات جولائی 2005 کے حملوں کے بعد ایک دہائی کے دوران برطانیہ میں صرف دو افراد دہشت گردی میں ہلاک ہوئے۔

شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ نے اس نئی صورتحال پر غور کیا ہے اور گذشتہ چند ماہ میں یہ اس گروہ کی جانب سے مغرب میں افراد کو متاثر کرنے اور اس طرح کے انفرادی حملے کرنے کی طرف مائل کیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption اینڈرس بہرنگ بریبوک نے اوسلو میں 77 افراد کا قتل کیا

فرانس میں اس طرح کے متعدد حملے کیے جاچکے ہیں، جن میں گذشتہ سال کرسمس کے قریب قاتلانہ حملوں کی لہر شامل ہے۔

اس کے مقابلے میں برطانیہ میں حکام ایسے مشتبہ منصوبوں کو ناکام بنانے میں کامیاب رہی ہے اور شہروں میں ہلاکتوں کی تعداد محدود رہی ہے۔

حکام کے نکتہ نظر سے ایسے منصوبوں کو ناکام بنانا زیادہ مشکل ہوتا ہے، افراد کو کسی نیٹ سے منسلک ہونے کے بارے میں معلومات نہ ہونے کا مطلب ہے کہ انٹیلیجنس معلومات حاصل کرنا بھی مشکل ہے۔

اس کے ساتھ ساتھ، ایسے منصوبے بڑے پیمانے پر قتال کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔

انرش بہونگ بریوک کی مثال الگ ہے، ناروے میں سنہ 2010 میں ہونے والے حملے میں ان کی حیثیت منفرد ہے جس میں 77 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

واضح طور پر یورپ میں ہونے والے حالیہ واقعات سے خطرے کو بڑھا کر پیش کیا گیا ہے، لیکن پیرس جیسے بڑے پیمانے پر قتال کے واقعات شاذ و نادر ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty

اگرچہ دولت اسلامیہ ایک دہشت گرد تنظیم ہے جس نے اپنی توجہ مشرق کے صحراؤں سے بین الاقوامی قتل و غارت پر مرکوز کر دی ہے، یہ گروہ یورپی سکیورٹی کے ہوتے ہوئے بڑے پیمانے پر منصوبوں پر کس قدر عمل کرسکتی ہے اس کے بارے میں کچھ کہا نہیں جا سکتا۔

پیرس میں دہشت گردی کی کارروائی کے بعد، اس گروہ کے لیے بھی مزید مشکلات ہوں گی، کیونکہ حکام اب پیرس جیسے کسی واقعے کے بجائے پہلے ہی منصوبوں کو ناکام بنانے کے لیے کوشاں ہیں۔

اس کے ساتھ ساتھ، خطرے کی تصویر بہت زیادہ بڑھا چڑھا کر پیش کی جا رہی ہے جبکہ دولت اسلامیہ میں شامل سینکڑوں کی تعداد میں یورپی اور دیگر افراد اس گروہ کے نظریے کو اپنا چکے ہیں۔

یہ واضح نہیں ہے کہ کتنے منصوبہ سازوں کا سامنا ہوگا اور یورپ کب تک اس خوف کا سامنا کرتا رہے گا۔

اسی بارے میں