شامی علاقوں پر دہشت گردوں کے قبضے تک سیاسی عمل نہیں: بشارالاسد

Image caption ’سیاسی تبدیلی کی اس وقت تک کوئی ڈیڈ لائن نہیں دی جا سکتی جب تک ملک کے کچھ علاقے حکومت کے کنٹرول میں نہیں ہیں‘

شام کے صدر بشار الاسد نے کہا ہے کہ ملک میں جاری خانہ جنگی کے خاتمے کے لیے سیاسی عمل اس وقت تک شروع نہیں کیا جا سکتا جب تک ملک میں ’دہشت گردوں کا قبضہ‘ ہے۔

اٹلی کے ریاستی ٹی وی چینل سے بات کرتے ہوئے بشار الاسد نے کہا کہ انتخابات کے لیے ٹائم ٹیبل اس وقت شروع ہو گا جب دہشت گردوں کو شکست دیے جانے کا آغاز ہو گا۔

تاہم یہ واضح نہیں ہے کہ شامی صدر صرف شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ کا ذکر کر رہے تھے یا اس میں مغربی ممالک کے حمایت یافتہ جنگجو گروہ بھی شامل ہیں۔

اسد خاندان کا اندازِ اقتدار

’ایران کو بشار الاسد کی علیحدگی کو تسلیم کرنا ہو گا‘

جو امریکہ نہ کر سکا روس کر سکے گا؟

واضح رہے کہ پچھلے ہفتے بشار الاسد کے حلیف ممالک سمیت 19 ملکوں نے امن مذاکرات کے آغاز کے لیے یکم جنوری کی ڈیڈ لائن مقرر کی تھی۔

ان ممالک نے اقوام متحدہ کے اس بیان پر دستخط کیے تھے جس کے مطابق 14 مئی 2016 تک جنگ بندی پر رضا مندی ہو گی اور شام میں آزاد انتخابات ایک سال بعد ہوں گے۔

تاہم ویانا میں ہونے والے ان مذاکرات میں نہ تو شامی حکومت اور نہ ہی حزب اختلاف کو مدعو کیا گیا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ SANA
Image caption ’ٹائم ٹیبل کا آغاز دہشت گردی کو شکست دینے کے بعد ہو گا‘

اٹلی کے ٹی وی چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے بشارالاسد نے کہا کہ سیاسی تبدیلی کی اس وقت تک کوئی ڈیڈ لائن نہیں دی جا سکتی جب تک ملک کے کچھ علاقے حکومت کے کنٹرول میں نہیں ہیں۔

’ٹائم ٹیبل کا آغاز دہشت گردی کو شکست دینے کے بعد ہو گا۔ جب تک شام کے کئی علاقوں پر دہشت گردوں کا قبضہ ہو، اس وقت تک آپ سیاسی طور پر کچھ حاصل نہیں کر سکتے۔ اگر اس کے بعد آپ بات کریں تو سیاسی تبدیلی ڈیڑھ یا دو سال میں آ سکتی ہے۔‘

شام کے صدر بشار الاسد نے اس بات پر زور دیا کہ شام شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ کا ’انکیوبیٹر‘ نہیں ہے۔ ’اس تنظیم کا آغاز عراق میں ہوا جو ترکی اور سعودی عرب اور قطر کی حمایت اور ظاہر ہے مغربی پالیسی کا نتیجہ ہے۔‘

اسی بارے میں