خواتین کے لیے لڑنے والے مرد

تصویر کے کاپی رائٹ AP

عزیز انصاری، امریکی بھارتی کامیڈین اور اداکار

انھوں نے سنہ 2014 میں میڈیسن سکوائر گارڈن میں اپنے سٹینڈ اپ لائیو شو میں جنسی امتیاز کا موضوع چھیڑا تھا جس کے بعد ڈیوڈ لیٹرمن نے اینٹرٹینمنٹ انڈسٹری میں مساوات پیدا کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔

2015 کی ’100 خواتین‘

خواتین کے روز و شب

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

جسٹن ٹروڈو، نئے کینیڈین وزیر اعظم

جسٹن ٹروڈو نے اپنی انتخاباتی مہم چلاتے وقت کہا تھا کہ وہ عورتوں کے حقوق کی اپنی کوششوں پر فخر محسوس کرتے ہیں۔

ان کی کابینہ کینیڈا کی تاریخ کی وہ سب سے پہلی کابینہ ہے جس میں 15 خواتین اور 15 مردوں کی برابر تعداد شامل ہے۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ ان کے لیے یہ اتنا ضروری کیوں ہے کہ ان کی کابینہ میں مردوں اور خواتین کی تعداد برابر ہو تو انھوں نے کہا ’کیونکہ یہ 2015‘ ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ David Shankbone

سعد محسنی، افغانستان کے پہلے ’میڈیا مغل‘

مسٹر محسنی کے ملازمین میں 40 فیصد تعداد خواتین کی ہے۔

ان میں سے چند خواتین کو موت کی دھمکیاں دی گئیں کیونکہ انھوں نے ایک بھارتی ڈرامہ اور چند ایسے شو نشر کیے تھے جن میں بے نقاب خواتین کو دکھایا گیا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

قتل پر احتجاج

ترکی کے ایک اداکار علی ارکزان نے فروری سنہ 2015 میں آزگچان اسلان نامی ایک 20 سالہ طالبہ کے قتل کے خلاف احتجاجوں کا سلسلہ شروع کیا تھا۔

علی ارکزان اُن مردوں میں شامل ہوئے تھے جنھوں نے سڑکوں پر مِنی سکرٹس پہن کر مظاہرے کیے اور سوشل میڈیا پر بھی مہم چلائی تھی۔

آزگچان اسلان کو ایک مِنی بس کے ڈرائیور نے ریپ کرنے کی کوشش کے بعد قتل کر دیا تھا۔

گھریلو تشدد کے خلاف

سٹینلی لانگوتھی جنوبی افریقہ سے مہمات چلاتے ہیں جنھوں نے سنہ 1996 میں ’کوا تھیما‘ کی ٹاؤن شپ میں ’نیو امج رور سینٹر‘ قائم کیا تھا۔

یہ ان خطرے سے دو چار عورتوں کی دیکھ بھال کے مراکز ہیں جو گھریلو تشدد کا شکار ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty

احتجاجی ویڈیو

ڈائریکٹر وکاس بیل نے سنہ 2012 میں ایک بس پر گینگ ریپ اور قتل ہونے والی نوجوان طالبہ کی موت کی خبر پر احتجاجی ویڈیو بنائی جو سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی تھی۔

چین کے شاؤ جن

لیانگ شاؤجن ایک چینی انسانی حقوق کے وکیل اور ’چائنا اگینسٹ دا ڈیتھ پینلٹی‘ یعنی ’سزائے موت کے خلاف کھڑا چین‘ نامی تنظیم کے بانی ہیں۔

لیانگ شاؤجن ’وہ رانگرانگ‘ نامی شخص کا دفاع کر رہے ہیں جو ان پانچ احتجاجی رہنماؤں میں شامل ہیں جنھیں اپریل سنہ 2015 میں ’آکیوپائی دا مینز ٹائلیٹس اینڈ بلڈ سٹینڈ برائیڈ‘ نامی مہمات کے سلسلے چلانے پر گرفتار کیا گیا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty

’ہی فار شی‘

وتوریو کولاؤ ’ووڈا فون‘ کمپنی کے اطالوی چیف ایگزیکٹو ہیں جو ’ہی فار شی‘ نامی مہم کے حامی ہیں۔

انھوں نے ووڈا فون میں سینئر عہدوں پر صنفی مساوات قائم کی۔ ووڈا فون دنیا کی دوسری سب سے بڑی موبائل فون فراہم کرنے والی کمپنی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Michael Kaufman

’وائٹ ربن‘

مائیکل کافمن کینیڈا کے ایک ماہرِ تعلیم ہیں جنھوں نے سنہ 1991 میں مونٹریال یونیورسٹی میں 14 خواتین طلب علموں کے قتل کے بعد مردوں کی طرف سے کیے گئے تشدد کو روکنے کے لیے ’وائٹ ربن‘ نامی مہم چلائی تھی۔ ان لڑکیوں کو فائرنگ کے ذریعے ہلاک کیا گیا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

ریٹنگ الگ الگ کیوں ہے

رائین گاسلنگ کینیڈا سے تعلق رکھنے والے ہالی وڈ کے اداکار ہیں جنھوں نے فلموں میں مردوں اور خواتین کے جنسی مناظر کو الگ الگ ریٹنگ ملنے پر احتجاج کیا ہے۔

وہ کہتے ہیں: ’مرکزی دھارے میں شامل فلمیں اکثر ایک پریشان کن انداز سے جنسی تعلقات اور تشدد کی عکاسی کرتی ہیں۔ لیکن ایم پی اے اے باقاعدگی سے ان فلموں کو لوگوں کے دیکھنے کے لیے منظوری دیتی ہے، جس کی وجہ تشدد، ریپ اور ظلم کے حوالے سے سامعین کی حساسیت ختم ہو جاتی ہے۔‘

اسی بارے میں