’صرف کلمہ پڑھنے والوں کو رہا کیا جا رہا تھا‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

مالی کے دارالحکومت باماکو میں مسلح افراد کے حملے کا نشانہ بننے والے امریکی ہوٹل کی شاخ ریڈیسن بلو میں قیام پذیر مہمانوں کی تفصیلات سامنے آ رہی ہیں۔

مسلح افراد نے ہوٹل پر حملہ کر کے 140 افراد اور عملے کے 30 اراکین کو یرغمال بنا لیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق تین یرغمالیوں کو ہلاک کر دیا گیا ہے۔

مالی حملہ: لائیو اپ ڈیٹ

مالی کے ہوٹل پر حملے میں ’170 افراد یرغمال‘

کچھ عینی شاہدین نے آنکھوں دیکھا حال بتایا ہے:

’صرف کلمہ پڑھنے والوں کو رہا کیا جا رہا تھا‘

ایک سکیورٹی اہلکار نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا کہ صرف اُن یرغمالیوں کو رہا کیا جا رہا تھا جو کلمہ پڑھ سکتے تھےِ۔

’ڈپلومیٹک لائسنس پلیٹ والی گاڑی تھی‘

بی بی سی افریقہ نے نمائندے آلو دیاوارہ نے بتایا ہے کہ انھوں نے حملے کے وقت وہاں موجود ہوٹل کے مالی سے بات کی جس نے انھیں بتایا: ’وہ ایک گاڑی میں آئے جس پر ڈپلومیٹک لائسنس پلیٹ لگی ہوئی تھی اور انھوں نے چہرے پر ماسک پہن رکھے تھے۔ ہوٹل کے گیٹ پر سکیورٹی گارڈ نے انھیں روکنے کی کوشش کی تو انھوں نے فائرنگ شروع کر دی۔ ہم وہاں سے بھاگ گئے۔‘

بی بی سی افریقہ کے نمائندے نے ایک اور عینی شاہد سے بھی بات کی جس نے کہا کہ وہ صحیح طرح نہیں بتا سکتے کہ انھوں نے کتنے حملہ آوروں کو دیکھا تھا۔ انھوں نے کہا کہ پانچ سے لے کر 13 حملہ آور ہو سکتے ہیں۔

اس عینی شاہد نے کہا: ’انھوں نے ہوٹل کے گیٹ پر موجود تین سکیورٹی اہلکاروں کو زخمی کر دیا۔‘

’میں سمجھا چور گھس آئے ہیں‘

افریقی ملک گنی کے مشہور گلوکار سیکوبا بمبینو بھی حملے کے وقت ہوٹل میں تھے اور وہ ان لوگوں میں شامل ہیں جو بحفاظت باہر آگئے ہیں۔ انھوں نے صحافیوں کو بتایا: ’میں گولیاں چلنے کی آواز سے جاگا۔ مجھے لگا ڈاکوؤں کا کوئی چھوٹا گروہ ہوٹل میں آیا ہے۔ لیکن 30 منٹ بعد مجھے احساس ہوا کہ یہ کوئی چھوٹے موٹے جرائم پیشہ افراد نہیں ہیں۔‘

پولیس کی مدد سے ہوٹل سے بھاگ کر نکلنے والے ایک عینی شاہد مائیکل سکاپولیس نے بی بی سی نیوز کو بتایا:

’میں جم سے نکل کر لابی میں گیا تو میں نے زمین پر گولیاں دیکھیں۔‘

اسی بارے میں