امریکہ سے میکسیکو کے باشندوں کی وطن واپسی

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption ایک رپورٹ کے مطابق سنہ 2009 سے 2014 کے درمیان دس لاکھ سے زائد میکسیکو کے باشندے اور اُن کے خاندان بشمول امریکی نژاد بچوں کے امریکہ سے میکسیکو واپس چلے گئے

ایک مطالعے میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ کئی عرصے سے جاری روایت کے برعکس زیادہ بڑی تعداد میں میکسیکو کے باشندے امریکہ کی جانب نقل مکانی کرنے کے بجائے وہاں سے واپس اپنے ملک منتقل ہورہے ہیں۔

پیو ریسرچ سینٹر کی ایک رپورٹ کے مطابق سنہ 2009 سے 2014 کے درمیان دس لاکھ سے زائد میکسیکو کے باشندے اور اُن کے خاندان بشمول امریکی نژاد بچوں کے امریکہ سے میکسیکو واپس چلے گئے۔

جبکہ اسی عرصے کے دوران صرف آٹھ لاکھ 70 ہزار میکسیکن باشندے امریکہ آئے۔ اور ایک لاکھ 40 ہزار باشندے واپس اپنے ملک گئے۔

امریکہ میں ناہموار اقتصادی بحالی کو میکسیکن باشندوں کی اپنے ملک واپسی کی ایک بڑی وجہ بتایا گیا ہے۔

صنعتیں جہاں عام طور پر ان تارکینِ وطن کو کام ملتا تھا، جیسے کہ تعمیر کی صنعت میں سنہ 2009 میں جب امریکہ میں معاشی بحران سامنے آیا تھا، اس وقت سے لے کر اب تک کوئی بہتری نہیں آسکی۔

پیو سینٹر کی تحقیق کے مطابق سرحد پر موجودہ پابندیوں نے بھی مناسب دستاویزات کے بغیر امریکہ میں داخل ہونے والے میکسیکن باشندوں کی مشکلات میں اضافہ کردیا ہے۔

امریکہ نے غیر قانونی طور پر ملک میں داخل ہونے والے تارکینِ وطن کو ملک بدر کرنے کے حوالے سے کوششیں بھی تیز کردی ہیں۔

تاہم رپورٹ میں یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ امریکہ میں مقیم میکسیکن باشندوں کی ایک بڑی تعداد جو اپنے گھروں کو واپس گئی انھوں نے یہ سب ’اپنی ذاتی صوابدید‘ پر کیا۔

اِن باشندوں کے میکسیکو واپس جانے کی سب سے عام وجہ اپنے خاندان سے دوبارہ متحد ہوکر رہنا بتائی گئی ہے۔ جبکہ دیگر وجوہات میں میکسیکو میں ملازمت کے حوالے سے مواقعوں کا حوالہ دیا گیا ہے۔