سپین میں فرانکو کا اثر 40 سال بعد بھی باقی

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption جنرل فرانکو کی آمریت کا خاتمہ 1975 میں ہوا

جنرل فرانکو کی 40ویں برسی کے موقعے پر لندن سکول آف اکنامکس کے پروفیسر پال پریسٹن کی خصوصی تحریر

سپین کے جنرل فرانسسکو فرانکو نے ہٹلر اور مسولینی کی مدد سے جمہوریت کے خلاف ظالمانہ جنگ لڑی اور اُس کے بعد سپین میں ریاستی دہشت گردی کا بازار گرم کر دیا، جس میں ملک کے تعلیمی نظام اور حکومت کے زیر اثر میڈیا کے ذریعے سے قوم برین واشنگ کی جاتی تھی۔

دہشت گردی کے لیے اُن کی سرمایہ کاری نے سپین کے باشندوں کی اجتماعی سوچ میں یہ عزم ڈال دیا کہ وہ دوبارہ اس طرح کی خانہ جنگی کا تنازع نہیں جھیلیں گے اور نہ وہ مزید کسی آمر کو برداشت کریں گے۔

تاہم سپین میں صورتِ حال ہٹلر کے جرمنی اور مسولینی کے اٹلی سے مختلف تھی، جہاں بیرونی شکست ڈی نازی فکشن (یعنی نازی ہٹاؤ تحریک) کی جانب لےگئی۔ سپین میں یہ عمل نہیں ہوا جس کی وجہ سے فرانکو کی حکومت کے سائے اب بھی سیاست پر آسیب کی طرح منڈلا رہے ہیں۔

فرانکو کی فاتحانہ انتقامی رویے نے فوجی تربیت گاہوں میں پرورش پائی، جہاں زیر تربیت فوجی افسروں کو یہ تربیت دی جاتی تھی کہ جمہوریت انتشار اور علاقائی تقسیم کا باعث بنتی ہے۔

جب ان کی آمریت ختم ہوئی تو کچھ سینیئر فوجی حکام نے جمہوریت کے حق میں بڑے پیمانے پر سیاسی اتفاق رائے کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا اور 1970 کی دہائی کے آخر میں متعدد بار گھڑی کو الٹا چلانے کی کوششیں کی گئیں۔ اس سلسلے میں سب سے ڈرامائی دن 23 فروری 1981 کا تھا جب کرنل انتونیو تیجیرو نے بغاوت کی کوشش کی۔

سنہ 1981 میں بغاوت کی ناکامی کے بعد جب سپین نے سنہ 1982 میں نیٹو میں شمولیت اختیار کی تو فوج کے رویے میں واضح تبدیلی دیکھنے میں آئی اور اندرونی دشمنوں کے حوالے سے اُن کا سابقہ جنون باہر کے دشمن کی جانب منتقل ہو گیا۔

Image caption کرنل انتونیو بہیرو نے سپین کی کابینہ پر قبضہ کرنے کی کوشش کرتے ہوئے بندوق لہرائی

خانہ جنگی کی ہولناکیوں اور جنگ کے بعد زمانے سے خوف زدہ سپین کے شہریوں نے جمہوریت کی منتقلی کے دوران سیاسی تشدد اور فرانکو کے تصورات کو مسترد کر دیا تھا۔

تاہم جمہوریت میں جو چیز ناممکن ہے وہ جوابی ذہن سازی ہے۔

خاص طور پر اپنے آخری سالوں کے دوران فرانکو نے صرف جبر سے حکومت نہیں کی، اُنھوں نے عوامی حمایت کا مزہ بھی چکھا۔ ان کے حامیوں میں وہ لوگ بھی شامل تھے جو دولت، مذہبی عقائد یا نظریاتی وابستگی اور خانہ جنگی کے دوران اُن کے فوجی باغیوں کی کھل کر حمایت کرتے تھے۔

1950 کی دہائی کے آخر سے اُنھیں اُن لوگوں کی حمایت بھی حاصل ہو گئی تھی جو معیار زندگی بلند ہونے کے باعث خوش تھے۔

تاہم سنہ 1977 کے بعد سے سپین میں ہونے والے بہت سارے قومی، علاقائی اور بلدیاتی انتخابات میں فرانکو کی جماعتیں کبھی بھی دو فیصد سے زیادہ ووٹ حاصل نہیں کر سکیں۔ فرانکو کی آمریت کے اقدامات کی رہی سہی مقبولیت کو حکمراں جماعت کنزرویٹو پاپولر پارٹی اور اُن کے ووٹرز میں تلاش کیا جاسکتا ہے۔

لہٰذا کسی بھی حکومت نے کبھی بھی فرانکو کی حکومت کو ناجائز قرار نہیں دیا۔ سنہ 2007 میں تاریخی یادداشت کے قانون میں فرانکو کے متاثرین کے دکھ درد کو تسلیم کرنے کے لیے وقتی کوششیں کی گئیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption فرانکو کے حامی قوم پرستوں کو ان کی موت کے بعد سے زیادہ حمایت حاصل نہ ہوئی

آج خانہ جنگی اور جبر کے زخموں کے ساتھ آمریت کے دو مزید سائے سپین پر منڈلا رہے ہیں جس میں ایک بدعنوانی ہے اور دوسرا علاقائی تقسیم ہے۔

سپین کے دو علاقے علیحدگی کی طرف گامزن ہیں، ایک تو شمال میں باسک خطہ اور دوسرا کیتالونیا۔

دوسری بدعنوانی ہے جو ہسپانوی سیاست میں ہر جگہ سرایت کرگئی ہے۔ یہ کہنے کا فائدہ نہیں ہے کہ بدعنوانی فرانکو سے قبل بھی تھی اور بدعنوانی سپین کی ترقی میں آڑے نہیں آ سکتی۔

تاہم یہ حقیقت ہے کہ کاڈیئو اپنے ساتھیوں کو قابو میں رکھنے اور اُنھیں نوازنے کے لیے بدعنوانی کا استعمال کرتے تھے۔

حالیہ تحقیق میں اِن ثبوتوں سے پردے اُٹھے ہیں کہ اُنھوں نے خود اور اپنے خاندان کو مالامال کرنے کے لیے طاقت کا استعمال کیا۔ عام طور پر یہ کہا جا سکتا ہے کہ اُن کی حکومت کے اہم نکات میں سے ایک یہ بھی تھا کہ عوامی خدمت تو ہوتی ہی اپنے فائدے کے لیے ہے۔