شادی کےخرچ کی رقم پناہ گزینوں کے نام

Image caption سمنتھا جیسکن اور فارزین یوسف نے شادی ٹورنٹو کے سٹی ہال میں ایک سادہ تقریب میں کی

کینیڈا میں ایک جوڑے نے اپنی شادی کی پرتکلف دعوت منسوخ کر کے وہی رقم ایک شامی پناہ گزین گھرانے کو دینے کا فیصلہ کیا ہے۔

سمنتھا جیکسن اور ان کے شوہر فارزین یوسف نے نہ صرف پرتکلف دعوت کی جگہ شادی کی رسم سرکاری ’سِول میرج‘ کے تحت منعقد کرنے کا فیصلہ کیا بلکہ انھوں نے اپنے متوقع مہمانوں سے بھی درخواست کی ہے کہ وہ انھیں تحفے دینے کی بجائے پیسے ایک ایسے شامی گھرانے کے نام دے دیں جو ان دنوں کینیڈا آنے کی کوشش کر رہا ہے۔

تفصیلات کے مطابق سمنتھا جیکسن اور فارزین یوسف اپنی شادی کی تقریب کی منصوبہ بندی کر رہے تھے کہ انھوں نے شامی بچے ایلان کُردی کی تصویر دیکھی جو ترکی کے ساحل پر مردہ پایا گیا تھا۔

اس موقعے پر انھیں احساس ہوا کہ وہ اپنی شادی کے موقعے کو پناہ گزینوں کے لیے امداد جمع کرنے کے لیے استعمال کر سکتے ہیں۔

سمنتھا جیکسن اور فارزین یوسف نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ شادی کی روائتی بڑی تقریب کو منسوخ کرنے سے پہلے ہی سمنتھا جیکسن کینیڈا میں ایسے لوگوں کی مدد کر رہی تھیں جو انفرادی طور پر پناہ گزینوں کی مدد کے خواہش مند تھے۔

مسٹر یوسف کے بقول تصویر دیکھنے کے بعد سے ’ہمارے لیے اس خیال سے چھٹکارا حاصل کرنا مشکل ہوگیا تھا کہ کئی شامی گھرانوں کو کیسے کیسے مشکل فیصلوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ یہ خیال آتے ہی ہم نے اس امید کے ساتھ اپنی شادی کے منصوبے پر نظر ثانی شروع کر دی کہ ہم کسی شامی گھرانے کو ٹورونٹو میں ایک نئی زندگی شروع کرنے میں مدد کر سکیں۔‘

فارزین یوسف کہتے ہیں کہ ان دونوں کے گھر والوں اور دوستوں نے ان کے اس فیصلے کی تائید کی۔

Image caption ’ہمارا یہ فیصلہ ان اقدار کی عکاسی کرتا ہے جو کینیڈا کے لوگوں کو بہت عزیز ہیں‘

جس کے بعد تین ہفتوں کے اندر اندر انھوں نے اس مقصد کے لیے رقم اکٹھی کرنا شروع کر دی۔یوسف کے بقول ’ہمارا پیغام بالکل واضح تھا اور وہ یہ کہ پناہ گزینوں کے لیے کینیڈا کے دروازے کھلے ہیں۔‘

سمنتھا جیکسن اور فارزین یوسف اب تک 22,750 کینیڈین ڈالر جمع کر چکے ہیں اور انھیں امید ہے کہ وہ جلد ہی 27,000 ڈالر اکٹھے کر لیں گے۔ یاد رہے کہ چار افراد پر مشتمل کسی شامی گھرانے کو کینیڈا بلانے کے لیے سپانسر کرنے والے شخص کے پاس 27 ہزار ڈالر ہونا ضروری ہیں۔

مسٹر یوسف کہتے ہیں کہ ’ہمارا یہ فیصلہ ان اقدار کی عکاسی کرتا ہے جو کینیڈا کے لوگوں کو بہت عزیز ہیں۔‘

’ہمیں یقین ہے کہ ہماری مثال سے بہت سے دوسرے لوگوں کا حوصلہ بڑھےگا، بالکل ایسے ہی جیسے کئی دوسرے لوگوں کو دیکھ کر ہمیں بھی تقویت ملی۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ہم لوگ بہت خوش نصیب ہیں کہ ہمیں ہماری شادی کی تقریب نے یہ موقع فراہم کیا کہ ہم کسی بڑے مقصد کے لیے کام کر سکیں۔‘

یاد رہے کہ کینیڈا کی حکومت آئندہ ہفتے ایک منصوبے کا اعلان کرے گی جس کے تحت شام سے آنے والے 25 ہزار افراد کو کینیڈا میں پناہ دی جائے گی۔ یہ اعلان نو منتخب وزیرِ اعظم کی لبرل حکومت کے منصوبوں کا ایک اہم حصہ ہے۔

اسی بارے میں