بیلجیئم میں آپریشن،’16 گرفتار، صالح کی تلاش جاری‘

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption برسلز میں پیرس حملوں میں جیسی دہشت گردی کی کارروائی کے خدشات کے پیش نظر سکیورٹی ہائی الرٹ ہے

یورپی ملک بیلجیئم میں حکام کا کہنا ہے کہ پولیس نے مشتبہ افراد کے خلاف آپریشن کے دوران 16 افراد کو گرفتار کیا ہے تاہم ان میں پیرس حملوں میں مبینہ طور پر ملوث شدت پسند صالح عبدالسلام شامل نہیں۔

اتوار کو میڈیا بریفنگ کے دوران بیلجیئن پراسیکیوٹر ایرک وین ڈر سپٹ نے بتایا کہ 19 سرچ آپریشن برسلز میں جبکہ مزید تین شارلروا شہر میں کیے گئے۔

ان کا کہنا تھا کہ مولن بیک میں آپریشن کے دوران دو گولیاں بھی چلیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ان کارروائیوں کے دوران کوئی اسلحہ یا دھماکہ خیز مواد برآمد نہیں ہوا۔

بیلجیئم میں پولیس کو ’کئی مشتبہ افراد‘ کی تلاش

پیرس حملوں کا مبینہ ملزم گرفتار

پیرس کے ایک یرغمالی کی کہانی

اس سے قبل بیلحیئم کے وزیراعظم کا کہنا تھا کہ برسلز میں پیرس حملوں میں جیسی دہشت گردی کی کارروائی کے خدشات کے پیش نظر سکیورٹی ہائی الرٹ رہے گی۔

وزیراعظم چارلس مائیکل نے کہا کہ برسلز میں پیر کو سکول، یونیورسٹیاں اور میٹرو سروس بند رہے گی۔ یہ فیصلہ حکومت کی جانب سے سکیورٹی کی صورتحال کا از سرِ نو جائزہ لینے کے بعد کیا گیا ہے۔

ہفتہ وار تعطیلات کے دوارن بھی برسلز شہر مکمل طور پر بند رہا اور پولیس پیرس حملے میں ملوث مبینہ حملہ آور صلاح عبدالسلام کو تلاش کرتی رہی۔

13 نومبر کو شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ سے تعلق رکھنے والے شدت پسندوں نے پیرس میں حملے کر کے 130 افراد کو ہلاک کیا تھا۔ بعض حملہ آوروں کا تعلق برسلز سے بتایا جاتا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption برسلز میں شہر کی سڑکوں پر پولیس اہلکاروں کے ساتھ فوج کے دستے گشت کر رہے ہیں

دوسری جانب فرانسیسی پولیس کی جانب سے جاری کی گئی ایک خودکش بمبار کی نئی تصویر جاری کی گئی ہے۔ بی بی سی کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق یہ شخص یونان میں ایم المحمود کے نام سے پہنچا تھا۔

بی بی سی کے ایڈ ٹامسن نے فرانسیسی پولیس کی طرف سے جاری کردہ تصویر کا موازنہ ٣ اکتوبر کو یونانی جزیرے لیروس میں آنے والی ایک شخص کی دستاویزات میں شامل تصویر سے کیا ہے۔

یہ شخص شامی پناہ گزینوں کے گروہ میں شامل تھا اور اس کے ساتھ ایک اور حملہ آور بھی تھا جو احمد المحمد کے نام سے سفر کر رہا تھا۔

اس سے قبل وزیر داخلہ جان جیمبون کا کہنا ہے کہ شدت پسندی کا موجودہ خطرہ اس خطرے سے بڑا ہے جو پیرس حملوں میں مطلوب صالح عبدالسلام کی وجہ سے درپیش تھا۔

انھوں نے فلیمش براڈکاسٹر وی ٹی آر کو بتایا: ’یہ خطرہ ایک مشتبہ دہشت گرد سے بڑھ کر ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ پولیس کو کئی مشتبہ افراد کی تلاش ہے۔ تاہم انھوں نے واضح نہیں کیا ہے کہ ان کا اشارہ پیرس حملوں میں ملوث افراد کی طرف یا بیلجیئم میں حملوں میں تیاری کرنے والے دیگر افراد کی طرف تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption حکومتی تنبیہ کے باعث چھٹی کے دنوں میں بھی عوامی مقامات ویران رہے

برسلز میں شہر کی سڑکوں پر پولیس اہلکاروں کے ساتھ فوج کے دستے گشت کر رہے ہیں اور جبکہ حکومتی تنبیہ کے باعث چھٹی کے دنوں میں بھی عوامی مقامات ویران رہے۔

بیلجیئم کے حکام نے تاحال پیرس حملوں میں ملوث تین افراد کو اس واقعے کا ذمہ دار ٹھہرایا ہے۔

فرانسیسی میڈیا کے مطابق نو شدت پسندوں نے حملے کیے تھے جن میں سے سات جمعے کی رات مارے گئے تھے۔

ان حملوں میں مبینہ طور پر ملوث صالح عبدالسلام کو بیلجیئم لے جانے والے ایک ڈرائیور نے اپنی وکیل کو بتایا تھا کہ عبدالسلام نے ایک بڑی جیکٹ پہن رکھی تھی اور شاید وہ دھماکے کے لیے تیار تھے۔

اسی بارے میں