دولتِ اسلامیہ کو تباہ کر دیں گے: اوباما

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

امریکی صدر براک اوباما نے کہا ہے پیرس جیسے حملوں کو برداشت نہیں کیا جا سکتا، امریکہ اور اس کے اتحادی ملکر بالآخر دولتِ اسلامیہ کو تباہ کر دیں گے۔

خیال رہے کہپیرس میں دہشت گردوں کے حملوں کے بعد اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں متقفہ طور پر منظور کی جانے والے ایک قرارداد میں تمام ممالک پر زور دیا گیا ہے کہ وہ نام نہاد شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ کے خلاف جنگ میں شامل ہوں۔

پیرس کے چھ مقامات پر حملے

پیرس حملے مغرب کے لیے تنبیہ ہیں

امریکی صدر اتوار کو کوالالمپور میں ایشیا بحرالکاہل میں شامل ممالک کی تنظیم آسیان کے اجلاس میں شرکت کے بعد میڈیا سے گفتگو کر رہے تھے۔

انھوں نے کہا کہ تمام ممالک کو انھیں یہ پیغام دینا چاہیے کہ دنیا اپنا کام جاری رکھے گی اور ان سے خود زدہ نہیں ہو گی۔

صدر اوباما نے کہا کہ ’دولتِ اسلامیہ کے خلاف لڑنے کے لیے ہمارے پاس سب سے طاقتور ہتھیار یہ ہے کہ ہم کہیں کہ ہم (اس سے) نہیں ڈرتے، ان کو ایسا گمان نہ ہونے دیں کہ وہ کچھ اہم کر رہے ہیں۔ وہ قاتلوں کا ایک گروہ ہے۔‘

صدر براک اوباما نے کہا کہ’ہم وہ زمین ان سے واپس لے لیں گے جس پر وہ اس وقت قابض ہیں، ہم ان کی پیسہ حاصل کرنے کے ذریعے کو کاٹ دیں گے، ہم ان کی لیڈر شپ کو پکڑیں گے، ہم ان کے نیٹ ورک اور سپلائی لائن کو تباہ کر دیں گے اور ہم بالآخر انھیں تباہ کر دیں گے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ امریکہ اور اس کے اتحادی دہشت گردوں کے ساتھ کوئی نرمی نہیں برتیں گے۔

امریکی صدر نے پیرس حملوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ہوٹلوں، تھیٹرز اور ریستورانوں پر ہونے والے حملوں کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ وہ ہمیں میدان جنگ میں شکست نہیں سکتے اس لیے انھوں نے اپنا انداز تبدیل کر لیا ہے۔

اس موقع پر انھوں نے شام کے مسئلے کے حل کے حوالے سے بات بھی کی۔

ان کا کہنا تھا کہ شام اور عراق میں دولتِ اسلامیہ کو پسپا کیا جا رہا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

باراک اوباما نے روس پر زور دیا کہ وہ شام میں دولتِ اسلامیہ کے خلاف کارروائی پر توجہ مرکوز کرے۔

خیال رہے کہ روس شامی صدر بشارالاسد کا اہم اتحادی ہے اور وہ بشارالاسد کے مخالف گروہوں کو فضائی کارروائیاں میں نشانہ بنا رہا ہے۔ تاہم امریکہ اور اس کے اتحادی سمجھتے ہیں کہ شام کے مسئلے کے حل کے لیےبشارالاسد کی اقتدار سے علیحدگی ضروری ہے۔

اسی بارے میں