’آسٹریلیا پناہ گزینوں کے متعلق پالیسی پر نظرِ ثانی کرے‘

بان کی مون تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption بان کی مون آسٹریلوی وزیرِ اعظم سے کہا کہ آسٹریلیا بھی ذمہ داریاں بانٹے

اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون نے آسٹریلیا کے وزیرِ اعظم میلکم ٹرن بل سے کہا ہے کہ وہ اپنے ملک کی بارڈر سکیورٹی پالیسی پر نظرِ ثانی کریں۔

انھوں نے یہ بات ایسوسی ایشن آف ساؤتھ ایسٹ نیشنز (آسیان) کے اجلاس کے موقع پر آسٹریلیا کے آپریشن سورن بارڈرز پروگرام پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہی۔

آسٹریلیا پناہ کے طلب گاروں کو ساحل سے دور حراستی مراکز میں بیج دیتا ہے اور ان کشتیوں کو واپس بھیج دیتا ہے جن میں پناہ گزین آتے ہیں۔

آسٹریلوی وزیرِ اعظم کے ترجمان نے اس پر ردِ عمل ظاہر کرنے سے انکار کیا ہے۔

اقوامِ متحدہ کے ایک بیان کے مطابق بان کی مون اور میلکم ٹرن بل نے ماحولیاتی تبدیلی، شام اور کئی دیگر امور پر بھی بات کی۔

بان کی مون نے بالکل سیدھے الفاظ میں پناہ گزینوں کے مدعے کو اٹھایا، اپنی تشویش کا اظہار کیا اور میلکم ٹرن بل سے کہا کہ اپنی پالیسی کا دوبارہ جائزہ لیں۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ ’پناہ گزینوں کے متعلق آسٹریلیا کے پرانے عزم کو مدِ نظر رکھتے ہوئے اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل نے آسٹریلوی وزیرِ اعظم سے کہا کہ وہ ذمہ داریاں بانٹیں۔‘

یہ بیان ان اطلاعات کے بعد آیا ہے جن میں کہا گیا تھا کہ آسٹریلیا کی نیوی نے جمعے کو کرسمس آئی لینڈ کی قریب مشتبہ پناہ گزینوں کی ایک کشتی کو روکا تھا۔

آسٹریلیا کے امیگریشن ڈیپارٹمنٹ نے اس واقعے پر کوئی بیان نہیں دیا۔

ریکارڈ کے مطابق آسٹریلیا میں پناہ گزینوں کی آخری کشتی 2014 میں آئی تھی جب 157 تمل پناہ گزینوں سے بھری کشتی کو کرسمس آئی لینڈ کے شمال میں روکا گیا تھا۔

اسی بارے میں