گھڑی بنانے پر گرفتاری، ڈیڑھ کروڑ ڈالر کا مطالبہ

Image caption احمد محمد کے وکیل نے ایک خط میں کہا ہے کہ اس واقعے کے باعث اس کم عمر لڑکے کے لیے خطرہ پیدا ہوا اور وہ انتہائی ذہنی دباؤ میں آئے

گھر پر گھڑی بنا کر سکول لے جانے والے امریکی لڑکے احمد محمد نے امریکی ریاست ٹیکساس کے شہر ارونگ اور سکول سے ڈیڑھ کروڑ ڈالر ہرجانے کا مطالبہ کیا ہے۔

14 سالہ احمد محمد کو سکول سے عارضی طور پر نکال دیا گیا تھا اور پولیس نے انھیں اس وقت حراست میں لیا تھا جب استانی نے ان کی بنائی ہوئی گھڑی کو غلطی سے بم سمجھ لیا تھا۔

’بم لگنے والی‘ گھڑی پر طالبعلم کی گرفتاری

احمد کو اوباما کی شاباش، وائٹ ہاؤس میں بلاوا

گھڑی بنانے پر گرفتار ہونے والے احمد محمد قطر منتقل

امحد محمد کی حراست عالمی سطح پر شہ سرخیوں میں آئی تھی۔

احمد محمد کے وکیل نے ایک خط میں کہا ہے کہ اس واقعے کے باعث اس کم عمر لڑکے کے لیے خطرہ پیدا ہوا اور وہ انتہائی ذہنی دباؤ میں آئے۔

اس واقعے کے بعد احمد محمد اور اور اہل خانہ قطر منتقل ہو ئے ہیں جہاں وہ اپنی تعلیم مکمل کر رہے ہیں۔

احمد محمد کے وکیل ارونگ شہر سے ایک کروڑ ڈالر جبکہ سکول سے 50 لاکھ ڈالر ہرجانے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

ان کے وکیل کا کہنا ہے کہ ان کے موکل کے ساتھ کھلے عام ناروا سلوک کیا گیا اور وہ اس سلوک کے باعث اب بھی ذہنی دباؤ کا شکار ہیں۔

ان کے وکیل کا کہنا ہے کہ ہرجانے کے علاوہ ارونگ شہر اور سکول ان کے موکل سے معافی مانگیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption امحد محمد کی حراست عالمی سطح پر شہ سرخیوں میں آئی تھی

وکیل نے خط میں کہا ہے کہ اگر 60 روز کے اندر ہرجانہ اور معافی نہ مانگی گئی تو قانونی چارہ جوئی کی جائے گی۔

یاد رہے کہ ستمبر میں امریکی ریاست ٹیکساس میں ایک 14 سالہ بچے کو پولیس نے اس وقت گرفتار کر لیا جب وہ اپنے اساتذہ کو ایک اپنی بنائی ہوئی گھڑی سکول میں دکھانے کے لیے لے کر گیا اور وہ اسے بم سمجھ بیٹھے۔

احمد محمد نے امریکی میڈیا سے کہا کہ انھوں نے اپنے گھر میں ایک گھڑی بنائی تھی جسے وہ ارونگ کے شہر میں میک آرتھر ہائی سکول اپنے انجینئرنگ کے استاد کو دکھانے لےکر گئے تھے۔ کسی اور استاد نے گھڑی کو بم سمجھ کر پولیس کو آگاہ کر دیا تھا۔

احمد کے والد کو خدشہ ہے کہ یہ واقعہ احمد کے مسلمان ہونے کی وجہ سے پیش آیا تھا۔

اسی بارے میں