یونان مقدونیا سرحد پر پھنسے تارکین وطن نے احتجاجاً ہونٹ سی لیے

Image caption واضح رہے کہ یورپی ممالک نے پیرس میں حملوں کے بعد سے سرحد پر چیکنگ سخت کر دی ہے

یونان اور مقدونیا کی سرحد پر پھنسے غیر قانونی تارکین وطن نے سرحد پار کرنے کی اجازت نہ ملنے پر احتجاجاً اپنے ہونٹ سی لیے ہیں۔

اطلاعات کے مطابق ایران سے تعلق رکھنے والے چھ تارکین وطن ن ایدومنی نامی گاؤں کے قریب سرح پر اپنے ہونٹ سی لیے۔

سویڈن کی سرحدوں پر عارضی پابندی

یورپ کو 2017 تک 30 لاکھ مہاجرین کا سامنا

یونان اور مقدونیا کی سرحد پر سینکڑوں غیر قانونی تارکین وطن نے احتجاج اس وقت شروع کیا جب مقدونیا نے یونان سے داخل ہونے والے افراد کی تعداد میں کمی کر دی۔

واضح رہے کہ یورپی ممالک نے پیرس میں حملوں کے بعد سے سرحد پر چیکنگ سخت کر دی ہے۔

بلقان ممالک نے پچھلے ہفتے کہا تھا کہ وہ اپنی سرحد ان غیر قانونی تارکین وطن کے لیے کھولیں گے جو مسلح تصادم سے بھاگ کر آئے ہیں جیسے کہ شام، عراق اور افغانستان۔

ایرانی تارکین وطن کی جانب سے احتجاج کا یہ طریقہ گذشتہ کئی روز سے جاری احتجاج کے بعد اپنایا گیا ہے۔

اس مظاہرے میں بنگلہ دیش اور مراکش سے آئے ہوئے تارکین وطن بھی شامل ہو گئے کیونکہ یورپی ممالک میں معاشی بدحالی کی وجہ سے یورپی ممالک کا رخ کرنے والے افراد کو داخل ہونے کی اجازت نہیں دی جا رہی ہے۔

دوسری جانب امریکی خبر رساں ایجنسی اے پی کا کہنا ہے کہ نئی پابندیوں کے باعث یونان سے مقدونیا میں داخل ہونے والے افراد کی تعداد میں کمی واقع ہوئی ہے۔

اسی بارے میں