’بی بی سی کی سیاسی خودمختاری ختم ہو رہی ہے‘

Image caption موجودہ لائسنس فیس کی رقم کو ’باضابطہ کارروائی کے بغیر‘ ہی بند دروازوں کے پیچھے طے کر لیا گیا: ٹونی ہال

بی بی سی کے ڈائریکٹر جنرل ٹونی ہال کے مطابق بی بی سی کی سیاسی خودمختاری وقت کے ساتھ ساتھ ختم ہوتی جا رہی ہے۔

وہ پیر کو کارڈف کی بزنس کمیونٹی سے خطاب کرتے ہوئے برطانوی نشریاتی ادارے کے قواعد و ضوابط میں ہونے والی تبدیلیوں پر بات کرنے والے ہیں۔

’مفت لائسنسوں کی فیس بی بی سی ادا کرے‘

ٹونی ہال چاہتے ہیں کہ بی بی سی کو سیاست دانوں سے زیادہ ادارے کو لائسنس فیس ادا کرنے والوں کی خواہشات کا احترام کرنا چاہیے۔

لارڈ ہال کے مطابق گذشتہ 20 سالوں میں رونما ہونے والی ’اہم تبدیلیوں‘ کی وجہ سے بی بی سی کی خودمختاری کی بنیادیں کمزور ہوگئی ہیں۔

ان کے اس بیان پر ابھی حکومت کا موقف آنا باقی ہے۔

وہ کہیں گے کہ ’1990 کی دہائی میں جب میں بی بی سی کے خبروں اور حالات حاضرہ کے شعبےمیں کام کر رہا تھا تو اس وقت بی بی سی کی خودمختاری کو کئی رواجوں اور روایات کے ذریعے تحفظ حاصل تھا۔

’اس وقت کنزرویٹو پارٹی کے رکن ولی وہائٹ لا نے ہمیں ایک 15 سالہ چارٹر دیا جس میں ہماری خودمختاری کو سہارا دیا گیا تھا، اور ایک سیاسی دائرہ کار میں ادارے کے استحکام کی ضمانت دی گئی تھی۔‘

ٹونی ہال کہیں گے کہ ’بی بی سی میں بطور ڈائریکٹر جنرل واپسی کے بعد مجھے کئی تبدیلیاں محسوس ہوئیں۔ بی بی سی کی خودمختاری کی بنیادیں کمزور ہو چکی تھیں۔ وہ روایات اور غیر رسمی قواعد جو ہماری خومختاری کی ضمانت تھے کہیں غائب ہوگئے تھے۔‘

وہ مثال دیں گے کہ ڈیجیٹل سوئچ اوور، دیہاتی علاقوں کو براڈ بینڈ کی سہولت کی فراہمی دینے اور مقامی ٹی وی چینل جیسے حکومتی منصوبوں کی فنڈنگ کے لیے لائسنس فیس کا استعمال غلط فیصلے تھے۔

وہ یہ بھی کہنے والے ہیں کہ موجودہ لائسنس فیس کی رقم کو ’باضابطہ کارروائی کے بغیر‘ ہی بند دروازوں کے پیچھے طے کر لیا گیا اور یہ کہ آئندہ لائسنس فیس طے کرنے کے فیصلے میں فیس ادا کرنے والوں کی رائے بھی شامل ہونی چاہیے جس کا ایک طریقہ آن لائن ووٹنگ بھی ہو سکتا ہے۔

ٹونی ہال نے کارڈف بزنس کلب سے یہ خطاب اس وقت ہو رہا ہے جب کارپوریشن کے اگلے دس سالہ چارٹر کے لیے مذاکرات جاری ہیں۔

برطانیہ میں محکمہ برائے ثقافت، ابلاغ اور کھیل بی بی سی کے حجم اور دائرہ کار پر نظر ثانی کر رہا ہے اور اس بات کا جائزہ لے رہا ہے کہ کارپوریشن کو کس قسم کے پروگرام تیار کرنے چاہییں۔

اس لائحہ عمل کا ایک اہم حصہ یہ بھی ہے کہ اس بات کا فیصلہ کیا جائے کہ ادارے کا انتظام اور قواعد کس کی ذمہ داری ہیں۔

لارڈ ہال یہ بھی کہیں گے کہ بی بی سی کے نئے چارٹر میں ادارے کو یہ ہدایات نہ دی جائیں کہ اسے قسم کے پروگرام بنانے کی اجازت ہے اور نہ ہی انھیں ایسے منصوبوں پرکام کرنے سے روکا جائے جو امید افزا اور مقبول ہیں۔

’اگر چارٹر میں ہمارے فنڈز میں کمی کی جاتی ہے تو یہ ہماری تخلیقی آزادی میں کمی کے مترادف ہوگا اور فنڈز کی اس کمی کو اشتہارات سے پورا کرنے پر بھی پابندی لگائی جا رہی ہے۔ اس صورت میں نہ صرف بی بی سی کو نقصان پہنچے گا بلکہ اس کا نقصان مجموعی طور پر برطانیہ کی تخلیقی صنعت کو بھی پہنچے گا۔

’10 سال قبل اس قسم کے سخت قانون کے تحت بی بی سی کو فری ویو اور آئی پلیئر پر سرمایہ کاری سے روکا جاتا تو ہم ان ثمرات سے محروم رہ جاتے جس نے ہمیں ویڈیو آن ڈیمانڈ کی نئی مارکیٹ تخلیق کرنے میں مدد دی۔‘

لارڈ ہال کا خیال ہے کہ بی بی سی کے چارٹر کے وقفے کو 11 سال کر دیا جانا چاہیے کیونکہ اس سے یہ انتخابی عمل کے چکر سے باہر نکل جائے گا اور نظام میں تبدیلی پارلیمان کے ایک تہائی ووٹ یا لائسنس فیس ادا کرنے والوں کی اکثریتی رائے سے ہی ممکن ہو سکے گی۔

اسی بارے میں