برطانیہ کا ’سٹرائیک بریگیڈز‘ کی تیاری کا منصوبہ

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption نئے حملہ آور دستے برطانیہ کے موجود فوجیوں پر مبنی ہوں گے

برطانوی حکومت نے پانچ پانچ ہزار فوجیوں پر مشتمل دو حملہ آور فوجی دستے (سٹرائیک بریگیڈز) تیار کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

برطانیہ کے وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون اس بارے میں ایوان نمائندگان کو مطلع کرنے والے ہیں کہ ان دستوں کا قیام سنہ 2025 تک عمل میں آئے گا اور یہ برطانیہ کو لاحق ’متنوع خطرات‘ کے پیش نظر تیزی کے ساتھ تعینات کیے جا سکیں گے۔

شام اور دولتِ اسلامیہ کے لیے کیمرون کی حکمتِ عملی

اس کے علاوہ ڈیوڈ کیمرون جب فوجی دفاع اور سکیورٹی ریویو (ایس ڈی ایس آر) کا خاکہ پیش کریں گے تو وہ فوجی ساز و سامان پر خرچ کیے جانے والے اضافی 12 ارب پونڈ کی تفصیلات بھی بتائیں گے۔

اس اضافی اخراجات میں بحریہ کے نگرانی کرنے والے طیاروں کا نیا فلیٹ بھی شامل ہوگا۔

خیال رہے کہ 13 نومبر کو پیرس میں ہونے والے حملے کے سلسلے میں وہ فرانس کے صدر فرانسوا اولاند سے پیرس میں ملاقات کرنے والے ہیں اور یہ نئی پیش رفت اسی کے پیش نظر ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption برطانیہ کی فضائیہ میں نئے سکواڈرن شامل کیے جانے کا منصوبہ ہے

ان حملوں کی ذمہ داری دولت اسلامیہ نے قبول کی تھی جس میں 130 افراد مارے گئے تھے۔

ڈیوڈ کیمرون آئندہ ہفتے ایوان نمائندگان سے شام میں دولت اسلامیہ کے خلاف فضائی حملے کی تائید حاصل کرنے کی تیاری کر رہے ہیں۔

پیر کو ایس ڈی ایس آر کے سلسلے میں وزیرِاعظم کیمرون مندرجہ ذیل اعلانات کریں گے:

  • موجوہ فوج میں سے نئے حملہ آور دستے جو دنیا میں کہیں بھی تعینات کیے جاسکیں اور فوجی کی جدید نسل کی آئیکس بکتر بند گاڑیوں کا استعال۔
  • بحریہ کے نگرانی کرنے والے نئے نو بوئنگ پی- 8 طیارے۔
  • رائل ایئر فورس کے ٹائیفون جیٹ طیاروں کے کام کرنے کی مدت میں دس سال کے لیے اضافہ، زمین پر حملہ کرنے کی ان کی کارکردگی میں اضافے کا کام اور ملک کی فضائی قوت میں موثر طور پر دو اضافی فرنٹ لائن سکواڈرن کی شمولیت۔
تصویر کے کاپی رائٹ PA
Image caption شام میں دولت اسلامیہ کے خلاف فضائی حملے پر حمایت حاصل کرنے کے لیے کیمرون پارلیمان کے اراکین کی حمایت حاصل کرنے کی کوشش کریں گے

اس اضافے سے اگلے دس سال کے دوران فوجی سازوسامان پر اخراجات 178 ارب پونڈ ہو جائیں گے۔

ایس ڈی ایس آر کا پیش لفظ لکھتے ہوئے ڈیوڈ کیمرون نے کہا کہ ’تازہ حکمت عملی اس بات کے پیش نظر ہے کہ ہم ملک پر مبنی خطرات کی صورت میں روایتی دفاع پر اکتفا نہیں کر سکتے اور ہمیں ان خطرات کا جواب دینے کی ضرورت ہے جو کسی سرحد کو تسلیم نہیں کرتے۔

’اس لیے رواں پارلیمان کے دور میں ہماری ترجیحات میں ملک پر مبنی خطرات، دشت گردی سے نمٹنا، سائبر سکیورٹی میں عالمی رہنما رہنا اور اس بات کو یقینی بنانا شامل ہے کہ ہم کسی بحران کے پیدا ہونے کی صورت میں تیزی کے ساتھ اس کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔‘

اسی بارے میں