تیونس کے دارالحکومت میں دھماکے میں 12 ہلاک، کرفیو نافذ

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption جس وقت یہ دھماکہ ہوا اس وقت تیز بارشوں کے باعث سڑکوں پر پانی جمع تھا اور ٹریفک بہت زیادہ تھی

تیونس کے حکام کا کہنا ہے کہ دارالحکومت تیونس میں صدارتی گارڈز کی بس پر حملے کے نتیجے میں کم از کم 12 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

صدارتی محل کے ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ دھماکہ مرکزی شاہراہ پر اس وقت ہوا جب رش سب سے زیادہ ہوتا ہے۔ یہ دھماکہ صدارتی محل کے گارڈز کی بس پر حملہ تھا۔

تیونس کے صدر نے 30 روز کی ایمرجنسی نافذ کر دی ہے اور دارالحکومت تیونس میں کرفیو نافذ کر دیا ہے۔

تیونس میں سیاحوں کے ہوٹل پر حملہ، 39 ہلاک

’شدت پسندوں کو رکنے کے لیے دیوار‘

تیونس میں بی بی سی کی نامہ نگار کے مطابق یہ دھماکہ اس وقت ہوا جب یا تو یہ بس معزول صدر زین العابدین کی جماعت کے ہیڈکوارٹر کے باہر پہنچی یا اس کے قریب پہنچی۔

جس وقت یہ دھماکہ ہوا اس وقت تیز بارشوں کے باعث سڑکوں پر پانی جمع تھا اور ٹریفک بہت زیادہ تھی۔

برطانوی خبر رساں ایجنسی روئٹرز سے بات کرتے ہوئے صدارتی محل کے ذرائع نے بتایا کہ ابھی یہ کہنا قبل از وقت ہے کہ یہ دھماکہ ریموٹ کنٹرول تھا یہ بارودی مواد سے بس پر حملہ کیا گیا۔

یاد رہے کہ جون میں تیونس شہر سوس میں شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ نے ایک ہوٹل پر حملہ کیا تھا جس میں 39 افراد ہلاک ہوئے تھے۔

اسی بارے میں