کیا ترکی کا ردِعمل مناسب تھا؟

روس نے جب سے شام میں فضائی کارروائیوں کا آغاز کیا ہے تب ہی سے روسی جہازوں نے کئی بار ترکی کی فضائی حدود کی خلاف ورزیاں کی ہیں۔ ترکی نے اپنی فضائی حدود میں شامی جنگی جہاز کو بھی مار گرایا تھا۔

انقرہ نے یہ بات واضح کر رکھی تھی کہ فضائی حدود کی خلاف ورزی برداشت نہیں کی جائے گی اس لیے اس بات پر کسی کو کوئی شک نہیں ہونا چاہیے تھے کہ ایسا کرنے پر ترکی منہ توڑ جواب دے گا۔

لیکن روسی جیٹ طیارہ مار گرانے کا معاملہ تھوڑا پیچیدہ ہے۔

ترکی نے روسی جیٹ مار گرایا: کب کیا ہوا

جنگی طیارے کو گرا کر ’پیٹھ میں چھرا گھونپا‘ گیا: پوتن

’اپنے دفاع میں طاقت کے استعمال‘ کا لائسنس

ظاہر ہے روسی اور ترکی دونوں کی جانب سے دیے گئے واقعے کی تفصیلات مختلف ہیں۔ روس کا کہنا ہے کہ روسی جہاز ترکی کی فضائی حدود میں نہیں تھا جب اس کو نشانہ بنایا گیا۔

ترکی کا کہنا ہے کہ ترکی نے روسی جہاز کو کئی بار وارننگ دی اور جب اس نے راستہ تبدیل نہیں کیا تو اس کو مار گرایا گیا۔

مسئلہ یہ ہے کہ ترکی کی جانب سے جاری کیے گئے ریڈار میپ کے مطابق روسی جہاز سخوئی ترکی کی حدود سے گزر رہا تھا۔

یہ جہاز ترکی کے ایک چھوٹے سے ایسے حصے پر سے گزر رہا تھا جہاں سے ایک جیٹ کو پار کرنے میں بہت تھوڑا وقت درکار ہوتا ہے۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ جب ترکی یہ کہتا ہے کہ جہاز کو ترکی کی فضائی حدود میں داخل ہوتے ہوئے مارا گیا تو یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ اس جہاز کو فضائی حدود سے نکلتے ہوئے مارا گیا۔

لیکن اس کے پیچھے ایک کہانی ہے۔ روسی فضائی کارروائی شامی فوج کی شمالی شام میں ترکمان ملیشیا کے خلاف مدد کر رہی ہے۔

یہ وہ گروہ ہے جس کی حمایت ترکی کر رہا ہے اور انقرہ میں حکام روسی کارروائی کے حوالے سے ناخوش ہیں۔

تو کیا ترکی کا رد عمل روسی جہاز کے حوالے سے غیر معمولی تھا؟ یا کیا انقرہ اس تک میں تھا کہ ماسکو کو ایک سخت پیغام دینے کا موقع ملے؟

بہر حال روس اور ترکی کے درمیان جنگ نہیں ہو رہی اور روس کی جانب سے سخت الفاظ کے استعمال کے باوجود صورتحال قابو میں رہے گی۔

لیکن اس واقعے سے یہ صاف ظاہر ہوتا ہے کہ شام کے بحران میں کتنی پیچیدگیاں ہیں۔

مصر میں دولت اسلامیہ کی جانب سے روسی مسافر ھیارہ مار گرانے کے دعوے کے بعد ماسکو نے اس شدت پسند تنظیم کے ٹھکانوں کے خلاف فضائی کارروائیاں شروع کیں۔ اور اس سے بات واضح ہو رہی تھی کہ روس، مغرب اور اعتدال پسند عرب ممالک یکجا ہو رہے ہیں۔

لیکن روس کے ترکمان ملیشیا کے ٹھکانوں پر حملوں سے یہ بات صاف ظاہر ہے کہ وہ شام میں بشار الاسد کو مستحکم کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔

دوسری جانب ترکی بشار الاسد حکومت کو سخت ناپسند کرتا ہے ور چاہتا ہے کہ بشارالاسد کی حکومت نہ رہے۔ اس حوالے سے ترکی اور روس میں اختلاف ہے۔

ایران، سعودی عرب اور فیگر اعتدال پسند عرب ممالک کی طرح ترکی کا بھی اس بات میں مفاد ہے کہ شام میں کیا ہوتا ہے اور کون حکومت میں رہتا ہے۔ اور اسی طرح شام میں روس کا بھی مفاد ہے۔

امریکہ اور دیگر مغربی ممالک کو بشار الاسد پسند نہیں ہے اور وہ ان کی حکومت گرنا دیکھنا چاہتے ہیں لیکن ان کی اصل جنگ شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ سے ہے۔

یہ دو جنگیں یعنی شام کا مستقبل کے لیے جدوجہد اور دولت اسلامیہ کے خلاف کارروائی ایک دوسرے سے ملتی تو ہیں لیکن یہ جنگیں قطعاً ایک نہیں ہے۔

ترکی کی جانب سے روسی جہاز گرانے سے اس بات کا ایک بار پھر عندیہ ملتا ہے کہ اس خطے میں دولت اسلامیہ کے خلاف کارروائی کے علاوہ بھی بہت کچھ ہو رہا ہے۔

اسی بارے میں