جنگی طیارے کو گرا کر ’پیٹھ میں چھرا گھونپا‘ گیا: پوتن

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

ترک فوج کے حکام کے مطابق ملکی فضائیہ کے جنگی طیاروں نے فضائی حدود کی خلاف ورزی کرنے والے ایک روسی جنگی طیارے کو مار گرایا ہے جبکہ روسی صدر نے اس پر شدید برہمی کا اظہار کیا ہے۔

ترکی نے روسی جہاز کو مار گرانے کے اقدام کا دفاع کیا ہے۔ یہ واقعہ منگل کی صبح، شام اور ترکی کی سرحد کے قریب پیش آیا ہے۔

ترکی نے روسی جیٹ مار گرایا: کب کیا ہوا

ترک فضائیہ نے ڈرون مار گرایا

’روسی طیاروں کی ترک فضائی حدود میں آمد غلطی نہیں ہو سکتی‘

ماسکو میں موجود بی بی سی کی نامہ نگار کے مطابق روس کے صدر ولادی میر پوتن نے اس واقعے پر اپنے ردِعمل میں کہا ہے کہ ’ہم اس قسم کی بدتہذیبی کو برداشت نہیں کریں گے۔‘

سرکاری ٹی وی پر خطاب میں صدر پوتن نے کہا کہ ہم آج کے المناک واقعے کا تفصیلی تجزیہ کریں گے اور روس اور ترکی کے تعلقات سمیت اس کے معنی خیزنتائج برآمد ہوں گے۔ان کا کہنا تھا کہ دہشت گردوں کے حامیوں کی جانب سے ان کی پیٹھ میں چھرا گھونپا گیا ہے۔

خبر رساں اداروں کے مطابق صدر پوتن کا یہ بھی کہنا تھا کہ روسی طیارہ شامی سرحد سے چار کلومیٹر کے فاصلے پر شام کی حدود میں تھا۔

صوبہ لاذقیہ میں ہی ایک روسی ہیلی کاپٹر کو باغیوں کی فائرنگ کی زد میں آنے والی وجہ سے ہنگامی لینڈنگ کرنا پڑی ہے۔

برطانیہ سے کام کرنے والی سیریئن آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس کے مطابق ہیلی کاپٹر حکومت کے زیر کنٹرول علاقے میں لینڈ کرنے میں کامیاب ہو گیا۔

نیٹو کا ہنگامی اجلاس

ادھر صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے نیٹو کا غیر معمولی اجلاس طلب کر لیا گیا ہے۔

ترکی کے وزیراعظم دواؤد اوگلو نے روسی جہاز کو مار گرانے کے اقدام کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ جو بھی ’ہماری فضائی حدود یا زمینی سرحدوں کی خلاف ورزی کرے اس کے خلاف اقدام کرنا قومی ذمہ داری ہے۔‘

شام کے باغی گروہ کے ایک رکن جہاد احمد کے حوالے سے خبر رساں ادارے اے پی نے بتایا ہے کہ ایک روسی طیارے میں سوار دو میں سے ایک پائلٹ پیراشوٹ سے اترتے ہوئے فائرنگ کی زد میں آکر ہلاک ہوگیا۔

تاہم ترک فوج کے اہلکار نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا کہ نشانہ بنائے جانے والے طیارے کو پانچ منٹ میں دس بار متنبہ کیا گیا اور فضائی حدود سے باہر نہ جانے پر دو ایف 16 طیاروں نے اسے مار گرایا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption ترک فوج کے اہلکار نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا کہ نشانہ بنائے جانے والے طیارے کو متعدد بار متنبہ کیا گیا تھا

ویڈیو فوٹیج میں طیارے کا ملبہ شام کے سرحدی صوبے لاذقیہ کی حدود میں گرتا اور دو پائلٹوں کو پیراشوٹ کی مدد سے اترتے دیکھا جا سکتا ہے۔

غیر مصدقہ اطلاعات کے مطابق ان پائلٹوں میں سے ایک شام میں ترکمان فوجیوں کے قبضے میں ہے۔

نیٹو کے جنگی قوانین و قواعد کے مطابق فضائی حدود کی خلاف ورزی کرنے والے کسی بھی طیارے کو پہلے تین مرتبہ خبردار کیا جاتا ہے۔

تین مرتبہ خبردار کرنے کے باوجود اگر خلاف ورزی کرنے والا طیارہ اپنا راستہ نہیں بدلتا تو پھر اس کے خلاف کارروائی کی جا سکتی ہے۔

خیال رہے کہ رواں برس روس کی جانب سے شام میں شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ پر فضائی حملوں کے آغاز کے بعد اکتوبر میں روسی طیاروں کی جانب سے ترک فضائی حدود کی خلاف ورزی کے کئی واقعات پیش آئے تھے۔

اس وقت امریکہ اور نیٹو نے روس کو ایسے اقدامات سے باز رہنے کو کہا تھا اور متنبہ کیا تھا کہ اس کا نتیجہ روسی طیاروں کی تباہی کی صورت میں بھی برآمد ہو سکتا ہے۔

ان خلاف ورزیوں کے بعد اکتوبر میں ہی ترک جنگی طیاروں نے شام کی سرحد کے قریب ملکی فضائی حدود کی خلاف ورزی کرنے والے ایک بغیر پائلٹ کے ڈرون طیارے کو مار گرایا تھا۔

اسی بارے میں