’اپنے دفاع میں طاقت کے استعمال‘کا لائسنس

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ نے مشرق وسطیٰ سمیت کئی علاقوں میں پرتشدد کارروائیاں کی ہیں

پیرس میں ہونے والے حملوں کے اگلے روز امریکہ اور روس سمیت کئی اہم ممالک کے درمیان آسٹریا کے دارالحکومت ویانا میں ملاقات ہوئی۔

اس ملاقات کے دوران مندوبین نے نئے سال کے آغاز تک شام میں جنگ کے لیے کام کرنے کے عزم کا اظہار کیا۔

تاہم، اگر شام میں حکومت اور حزب اختلاف کے مابین قیام امن ہو بھی جاتا ہے تو اس کے باوجود ملاقات میں شام میں شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ کے خلاف اس کو انجام تک پہنچنے تک جنگ جاری رکھنے کے عزم کا بھی اظہار کیا۔

اس کے بعد اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے دولت اسلامیہ کی شام میں کارروائیوں کو ’عالمی امن اور سکیورٹی کے لیے خطرہ‘ قرار دینے کی قرارداد منظور کی۔

بلاشبہ کونسل نے رکن ممالک سے مطالبہ کیا کہ وہ عراق اور شام میں دولت اسلامیہ کے محفوظ ٹھکانوں کو ختم کرنے کے لیے معاونت میں ’تمام ضروری اقدامات‘ کریں۔

’تمام ضروری اقدامات‘ کو عام طور پر اقوام متحدہ میں طاقت کے استعمال کے طور پر بھی لیا جاتا ہے۔

تاہم اس موقع پر قرارداد اقوام متحدہ کے چارٹر کے ساتویں باب کے تحت منظور نہیں کی گئی۔ یہ باب اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے غیرمعمولی اقدامات سے متعلق ہے۔

اس کا مطلب ہے کہ دولت اسلامیہ کے خلاف اپنے دفاع کے لیے طاقت کا استعمال کیا جا سکتا ہے۔

اور یہ وضاحت کرتی ہے کہ تمام اقدامات بین الاقوامی قوانین اور اقوام متحدہ کے چارٹر کے مطابق کیے جائیں گے اور ان میں معاونت کی بھی ضرورت ہوگی۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے ’دولت اسلامیہ‘ کے خلاف قرار منظور کی

اس زبان سے ظاہر ہوتا ہے کہ قرارداد میں کارروائیوں کی اجازت لینے والے ممالک کے لیے کوئی نئے احکامات شامل نہیں ہیں۔

اس کے بجائے وہ اس قانونی جواز پر ہی تکیہ کریں گے جس قانونی بنیاد پر وہ فضائی حملے کر رہے ہیں۔

روس یہ دلیل پیش کرتا ہے کہ شام میں بشار الاسد کی حکومت نے شام میں دولت اسلامیہ کے خلاف روسی فوجوں کو دعوت دی ہے۔

یہ واضح نہیں کہ دمشق کے حکام کے پاس تاحال غیرملکی فوجوں کو بلانے کا اختیار ہے یا نہیں۔

مصر میں روسی مسافر طیارے کو دہشت گردی کا نشانہ بنانے تک شام میں روسی فضائی حملے دولت اسلامیہ کے بجائے بشار الاسد کے مخالفین کے خلاف زیادہ دکھائی دے رہے تھے۔

مغربی حکومتیں دعوت دیے جانے پر بھی انحصار کرتی ہیں، جیسا کہ عراق نے دی۔

عراق کا کہنا ہے کہ دولت اسلامیہ شام کی سرزمین کو محفوظ ٹھکانوں کے طور پر استعمال کررہی ہے اور وہ صرف اسی صورت میں دولت اسلامیہ کو شکست دے سکتے ہیں اگر ایسا ہی ان کے خلاف شام میں کیا جائے۔

اس کے لیے عراق کے مغربی اتحادیوں کی مدد کی ضرورت ہے تاکہ وہ مجموعی طور پر ذاتی دفاع کا حق استعمال کر سکیں، اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اس دعوے کو تسلیم کیا۔

کیا ممالک اپنے دفاع کے لیے اپنے خطے سے باہر طاقت کا استعمال کر سکتے ہیں؟

یہ سوال پیرس میں حملوں کے بعد بھی اٹھایا گیا ہے، تاہم یہ سوال نیا نہیں ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption پیرس حملوں میں 130 افراد ہلاک ہوئے تھے

نیویارک اور واشنگٹن میں نائن الیون حملوں کے بعد اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے تصدیق کی تھی کہ غیرریاستی کردار یعنی دہشت گردوں کے پاس اتنی صلاحیت ہے کہ وہ فوجی نوعیت کا حملہ کر سکتے ہیں جس سے ذاتی دفاع کا بین الاقوامی حق اجاگر ہوتا ہے۔

ورلڈ ٹریڈ سینٹر کی جڑواں عمارتوں کو جہازوں سے ٹکرا کر تباہ کرنا ایسا ہی ہے جیسے میزائلوں سے حملہ کیا جائے۔

چنانچہ امریکہ اور اس کے اتحادی افغانستان تک القاعدہ کا پیچھا کر سکتے ہیں۔

ذاتی دفاع کے لیے طاقت کا استعمال صرف کسی مسلح حملے کو روکنے یا اس سے بچنے کے لیے کیا جا سکتا ہے۔

کسی واقعے کے بعد طاقت سے جواب یا کسی خطرے کے پیش نظر جس پر مستقبل میں شاید عمل درآمد ہو یا نہ ہو، ایسی صورت میں اس کے استعمال پر روک ہے۔

سنہ 2014 میں واشنگٹن نے شام میں القاعدہ کے ایک اتحادی گروہ خراسان کے خلاف دفاعی حکمت عملی اپنائی تھی۔

اس کے ایک سال بعد برطانیہ نے ریاد خان اور دو دیگر افراد کے خلاف شام میں ڈرون حملے تسلیم کیے تھے۔

دونوں مواقع پر امریکہ اور برطانیہ کی حکومتوں نے یہ کیس بنانے میں نہایت احتیاط سے کام لیا کہ یہ اہداف بالترتیب امریکہ اور برطانیہ میں اصل یا ناکام مسلح حملوں میں ملوث رہے ہیں اور مستقبل میں بھی ایسی کوششیں ہوسکتی تھیں۔

دونوں ممالک نے اپنی کارروائیوں کے بارے میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو آگاہ کیا اور اس پر کوئی خاص اعتراضات نہیں اٹھائے گئے۔

تصویر کے کاپی رائٹ other
Image caption برطانوی شہریت کے حامل شدت پسند ریاد خان کی ڈرون حملے میں ہلاکت ہوئی تھی

فرانس ابتدا میں شام میں دولت اسلامیہ کے خلاف امریکہ کے اتحادی ممالک میں شامل ہونے سے کترا رہا تھا۔

تاہم ستمبر میں فرانسیسی فضائینہ نے شام میں دولت اسلامیہ کے تربیتی مراکز کو نشانہ بنایا۔

ماضی میں فرانس میں اسلامی شدت پسندوں کی جانب سے حملے کیے گئے، جس کا اختتام میگزین چارلی ایبڈو کے عملے کے خلاف حملوں پر ہوا تھا۔

فرانس یہ دلیل پیش کرتا ہے کہ فرانس کی قومی سلامتی کو دولت اسلامیہ سے خطرہ ہے اور اس کے جواب میں انھیں اپنے دفاع کی ضرورت ہے۔

یہ ایک بہت وسیع دعویٰ تھا لیکن افسوس ناک طور پر پیرس حملوں نے اس کی توثیق کر دی ہے۔

اسی بارے میں