امریکہ کا دولتِ اسلامیہ کے خلاف مزید تعاون کا مطالبہ

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption وائٹ ہاؤس کے ترجمان نے اس خیال کو رد کیا کہ امریکہ اس جنگ کے لیے مزید نئے وسائل استعمال کرنے کا ارادہ رکھتا ہے

امریکہ نے شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ کے خلاف کارروائیوں میں شریک اپنے اتحادیوں سے اس مہم میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے پر زور دیا ہے۔

امریکی محکمۂ خارجہ کے مطابق اتحاد میں شامل 65 ممالک میں سے 59 کے سفیروں نے پیر کو نام نہاد دولتِ اسلامیہ کے خلاف مہم کے بارے میں بات چیت میں شرکت کی ہے۔

’دہشت گردی کا خطرہ، امریکی شہری محتاط رہیں‘

فرانس کے دولتِ اسلامیہ کے خلاف حملے تیز

پیرس میں بدترین تشدد اور اس کے بعد کی صورتحال: خصوصی ضمیمہ

’تمام ممالک دولتِ اسلامیہ کے خلاف جنگ میں شامل ہوں‘

اس اجلاس میں تنظیم کے مالیاتی ڈھانچے کو نشانہ بنانے اور اس میں شمولیت کے خواہشمند افراد کو شام اور عراق پہنچنے سے روکنے کی حکمتِ عملی پر بات ہوئی۔

اجلاس کے بعد امریکہ کے خصوصی مندوب بریٹ میگرک کا کہنا تھا کہ انھوں نے اتحادی ممالک سے کہا ہے کہ وہ دولتِ اسلامیہ کے مرکز پر دباؤ میں اضافہ کریں۔

امریکہ کی جانب سے اس مہم میں شامل اتحادیوں سے خفیہ معلومات کے حصول اور عسکری امداد جیسے معاملات میں مزید تعاون کا مطالبہ ایسے وقت کیا گیا ہے جب خود امریکی صدر براک اوباما پر دباؤ میں اضافہ ہو رہا ہے کہ وہ پیرس حملوں کے جواب میں دولتِ اسلامیہ کے خلاف کارروائیوں کا دائرہ بڑھائیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption فرانس کی جانب سے حملوں میں تیزی کا فیصلہ دولتِ اسلامیہ کی جانب سے پیرس حملوں کی ذمہ داری قبول کرنے کے بعد کیا گیا

فرانسیسی صدر فرنسوا اولاند نے دولتِ اسلامیہ کی جانب سے پیرس حملوں کی ذمہ داری قبول کیے جانے کے بعد شام اور عراق میں شدت پسند تنظیم کے خلاف حملے تیز کرنے کا اعلان کیا تھا۔

اسی سلسلے میں پیر کو فرانسیسی طیاروں نے پہلی بار طیارہ بردار فرانسیسی جنگی بحری جہاز چارلز ڈی گال سے پرواز کر کے اہداف کو نشانہ بنایا۔

فرانسوا اولاند ان کارروائیوں میں اضافے پر بات چیت کے لیے بدھ کو امریکہ بھی پہنچ رہے ہیں۔

پیر کو وائٹ ہاؤس کے ترجمان جوش ارنسٹ نے صحافیوں کو بتایا کہ امریکہ دولتِ اسلامیہ کے خلاف اپنی قیادت میں جاری عالمی عسکری مہم میں ممکنہ طور پر فضائی حملوں اور تربیت اور مدد کی کارروائیوں میں اضافہ کر سکتا ہے کیونکہ یہ دونوں چیزیں کارگر رہی ہیں۔

تاہم انھوں نے اس خیال کو رد کیا کہ امریکہ اس جنگ کے لیے مزید نئے وسائل استعمال کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ امریکہ اس اتحاد میں ’اپنی استطاعت سے زیادہ حصہ ڈال رہا ہے اور ہم سمجھتے ہیں کہ مزید بھی کچھ کیا جا سکتا ہے اگر دیگر ممالک مزید وسائل مہیا کریں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption دولتِ اسلامیہ کے خلاف امریکی قیادت میں جاری عالمی عسکری مہم میں درجن بھر عرب ممالک سمیت دنیا کے 65 ممالک شامل ہیں

ادھر امریکی فوج کا کہنا ہے کہ اس نےشام میں فضائی حملوں میں شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ کے 238 تیل بردار ٹینکر تباہ کر دیے ہیں۔

فوج کی جانب سے بیان میں کہا گیا ہے کہ الحسکہ اور دیر الزور میں ٹرمینل پر تیل بھرنے کے انتظار میں کھڑے ٹرکوں پر حملے کیے گئے۔

بیان کے مطابق ’فضائی کارروائی سے قبل وارننگ شاٹ فائر کیے گئے تاکہ ڈرائیور بھاگ جائیں اور اس کے بعد کارروائی کی گئی۔‘

یاد رہے کہ شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ تیل بیچ کر بھاری رقم حاصل کرتی ہے۔

اسی بارے میں