’نیوز رُوم کو صنفی لحاظ سے مساوی بنانا ہوگا‘

Image caption سیاست کے مقابلے میں خواتین کو صحت اور سائنس سے متعلق خبروں میں زیادہ دکھایا جاتا ہے

گلوبل میڈیا مانیٹرنگ پراجیکٹ کی ایک تازہ تحقیق کے مطابق ذرائع ابلاغ میں مردوں کے مقابلے میں خواتین کہیں کم دکھائی دیتی ہیں۔

تنظیم کی تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ دنیا کی آدھی آبادی پر مشتمل ہونے کے باوجود جن لوگوں کے متعلق خبریں سُنائی دیتی ہیں خواتین محض اُس کا 24 فیصد ہیں۔

بی بی سی کا ’100 خواتین سیزن‘: خصوصی ضمیمہ

جی ایم ایم پی کی سارا میکارئیا کا کہنا ہے کہ 20 سال قبل جب اس تحقیق کا پہلی بار آغاز کیا گیا اُس وقت سے لے کر اب تک صورتحال میں کوئی خاص بہتری نہیں آئی ہے۔

اُن کے مطابق خواتین اور مردوں کے درمیان صنفی امتیاز ختم ہونے یا برابری حاصل کرنے کے لیے ’ایک صدی کا کم از کم تین چوتھائی (75 برس) کا عرصہ‘ درکار ہوگا۔

میکارئیا نے مزید کہا ’سنہ 1995 میں جن لوگوں کے انٹرویو کیے گئے یا جنھیں خبر کا موضوع بنایا گیا اُن میں خواتین کی تعداد 17 فیصد تھی جبکہ اگر اس کا تقابلی جائزہ لیا جائے تو آج یہ تعداد 24 فیصد ہے۔‘

رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ڈیجیٹل میڈیا میں بھی یہ صنفی امتیاز موجود ہے جس میں دنیا میں بھر میں کیے جانے والے ٹویٹس اور آن لائن خبروں میں مردوں کے مقابلے میں خواتین کو محض ایک چوتھائی نمائندگی دی جاتی ہے۔

لیکن خبر کی کوریج کی کچھ اقسام ایسی ہیں جہاں صنفی توازن دوسری اقسام کے مقابلے میں کافی بہتر ہے۔ مثال کے طور پر سیاست کے مقابلے میں خواتین کو صحت اور سائنس سے متعلق خبروں میں زیادہ دکھایا جاتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق اس کی وجوہات میں بڑی حد تک علاقائی فرق بھی شامل ہے۔ شمالی امریکہ کی خبروں میں خواتین زیادہ نمایاں نظر آتی ہیں بہ نسبت مشرقِ وسطیٰ کے ممالک کے جہاں خبروں میں خواتین کے نظر آنے کا تناسب انتہائی کم ہے۔

رپورٹ میں خواتین نامہ نگاروں اور پیش کاروں کے تناسب کو بہتر بنانے کے حوالے سے لاطینی امریکہ کے کردار کو سراہا گیا ہے جہاں سنہ 2000 میں محض 28 فیصد خواتین نامہ نگار اور پیش کار تھیں جبکہ اب یعنی کہ 15 سال بعد یہ تعداد 43 فیصد ہے۔

Image caption شمالی امریکہ میں ذرائع ابلاغ میں کام کرنے والی خواتین کا تناسب کم ہوتا نظر آرہا ہے

ڈاکٹر میکارئیا کا خیال ہے کہ اس تبدیلی کے پسِ منظر میں وسیع ترین ثقافتی وجوہات موجود ہیں۔ ان کے مطابق ’یہ دنیا کا ایک ایسا خطہ ہے جس میں حکومتی سطح پر سب سے زیادہ خواتین سربراہ شامل ہیں اور یہاں حقوقِ نسواں کی علمبرداری کے حوالے سے متحرک تحریکیں موجود ہیں۔‘

دوسری جانب شمالی امریکہ میں ذرائع ابلاغ میں کام کرنے والی خواتین کا تناسب کم ہوتا نظر آرہا ہے۔ سنہ 2005 میں امریکہ اور کینیڈا میں 48 فیصد نامہ نگار اور پیش کار خواتین تھیں جبکہ آج یہ تعداد محض 38 فیصد ہے۔

رپورٹ کے مصنفین کا کہنا ہے کہ امریکہ کی اخباری صنعت میں نوکریوں کے بڑے پیمانے پر خاتمے کے عمل نے سب سے زیادہ خواتین کو متاثر کیا ہے جس کی وجہ سے آن لائن خبروں کے شعبے میں مردوں کا غلبہ ہو گیا ہے۔

جی ایم ایم پی کے اندازے کے مطابق دنیا بھر کے تمام نامہ نگاروں میں خواتین کا تناسب 37 فیصد ہے اور اس شرح میں دس برس سے کوئی تبدیلی نہیں آئی۔

اس کا مطلب یہ ہوا کہ دنیا بھر کے نیوز رُوم کو صنفی لحاظ سے مزید مساوی بنانے کے لیے اب بھی اس حوالے سے کام کرنے کی ضرورت موجود ہے۔

اسی بارے میں