’شام میں دولتِ اسلامیہ پر فضائی حملے برطانوی مفاد میں ہیں‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP Getty
Image caption ڈیوڈ کیمرون کا کہنا تھا کہ برطانیہ اپنے تحفظ کی ذمہ داری اپنے اتحادیوں پر نہیں ڈال سکتا

برطانیہ کے وزیرِ اعظم ڈیوڈ کیمرون نے کہا ہے کہ شام میں شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ پر فضائی حملے کرنا ملک کے ’قومی مفاد‘ میں ہے۔

برطانوی دارالعوام میں جمعرات کو خطاب کرتے ہوئے انھوں نے ان خیالات کو رد کیا کہ ایسا کرنے سے برطانیہ دہشت گردی کی کارروائیوں کا بڑا ہدف بن سکتا ہے۔

امریکہ کا دولتِ اسلامیہ کے خلاف تعاون کا مطالبہ

جرمنی کا دولتِ اسلامیہ کے خلاف مزید اقدامات کا عزم

فرانس کا دولتِ اسلامیہ پر حملے تیز کرنے کا اعلان

انھوں نے ارکانِ پارلیمان کو بتایا کہ برطانیہ پہلے ہی دولتِ اسلامیہ کے شدت پسندوں کا ہدف ہے اور اس معاملے سے نمٹنے کا واحد طریقہ یہی ہے ’فوری کارروائی‘ کی جائے۔

دارالعوام میں آئندہ چند ہفتوں میں حکومت کو فضائی حملے کرنے کی اجازت دینے کے معاملے پر ووٹنگ متوقع ہے۔

اپنی تقریر میں ڈیوڈ کیمرون کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’برطانیہ اپنے تحفظ کی ذمہ داری اپنے اتحادیوں پر نہیں ڈال سکتا‘ اور اسے فرانس کا ساتھ دینا ہوگا۔

انھوں نے کہا کہ ’اتحادیوں کو اپنی سلامتی کا ٹھیکہ دے کر ہمیں صبر شکر کر کے نہیں بیٹھنا چاہیے۔ اگر ہمارا یقین ہے کہ عملی کارروائی کرنے سے ہمیں تحفظ مل سکتا ہے، تو ہمیں اپنے اتحادیوں کے ساتھ، اُس عملی کارروائی کا حصہ ہونا چاہیے، نہ کہ ایک طرف کھڑے رہنا چاہیے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption برطانوی حکومت کا موقف ہے کہ دولتِ اسلامیہ کے شدت پسندوں کے خلاف کارروائی کو عراق تک محدود رکھنا ’غیر منطقی‘ ہے

برطانوی وزیرِ اعظم نے یہ بھی کہا کہ ’اِس اخلاقی جواز کے علاوہ ایک بنیادی سوال بھی ہے۔ اگر ہم ابھی کچھ نہیں کرتے جب ہمارے دوست اور اتحادی فرانس پر حملہ ہوا ہے، تو پھر ہمیں اپنے اتحادیوں کا یہ سوال بھی برداشت کرنا ہو گا کہ اگر ابھی نہیں تو پھر کب؟‘

ان کا کہنا تھا کہ ’یہ دیکھیں کہ بدلا کیا ہے؟ نہ صرف پیرس پر حملہ ہوا ہے بلکہ دنیا اکٹھی ہو گئی ہے اور اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد پر متفق ہے۔ حقیقی معنوں میں ایک سیاسی عمل کا آغاز ہو چکا ہے۔ اُس سے شام میں نئی حکومت آ سکتی ہے جس کے ساتھ کام کر کے، ہم داعش کو ہمیشہ کے لیے شکست دے سکتے ہیں۔‘

خیال رہے کہ فرانس کے دارالحکومت پیرس میں رواں ماہ ہونے والے حملوں کی ذمہ داری بھی دولتِ اسلامیہ نے ہی قبول کی ہے۔

اس تقریر سے قبل برطانوی امورِ خارجہ کی کمیٹی کی رپورٹ کے جواب میں برطانوی وزیرِ اعظم نے کہا تھا کہ ’ہمارے مفادات اور عوام کو اس نوعیت کے خطرات لاحق ہیں کہ ہم لاتعلق نہیں رہ سکتے۔‘

امورِ خارجہ کی کمیٹی نے اپنی رپورٹ میں فضائی حملوں کی اجازت دیے جانے پر غور سے قبل متعدد اقدامات کا مطالبہ کیا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption ہمارے ذہنوں میں بنیادی سوال یہ اٹھنا چاہیے کہ جو تجویز وزیرِاعظم دے رہے ہیں، اُس سے ہماری سلامتی مضبوط ہو گی یا کمزور: جیریمی کوربن

رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ دولتِ اسلامیہ سے نمٹنے اور شام میں جاری خانہ جنگی کے خاتمے کے لیے ’مربوط عالمی حکمتِ عملی‘ کے بغیر کوئی عسکری مداخلت نہیں کی جانی چاہیے۔

برطانوی پارلیمان کے ارکان سنہ 2013 میں شام کی حکومتی افواج کے خلاف فضائی حملوں کی مخالفت کر چکے ہیں تاہم انھوں نے بعدازاں عراق میں دولتِ اسلامیہ کے خلاف کارروائی کی اجازت دے دی تھی۔

حکومت کا موقف ہے کہ دولتِ اسلامیہ کے شدت پسندوں کے خلاف کارروائی کو عراق تک محدود رکھنا ’غیر منطقی‘ ہے کیونکہ یہ تنظیم عراق اور شام کی سرحد کو تسلیم ہی نہیں کرتی۔

ایوان میں حزبِ اختلاف کی جماعت لیبر پارٹی کے قائد جیریمی کوربن نے اپنی تقریر میں کہا کہ ’مجھے یقین ہے کہ پورا ایوان اتفاق کرے گا کہ مستقبل میں ہماری اولین ترجیح اِس ملک کے لوگوں کی سلامتی ہونی چاہیے۔ جب ہم فوجی کارروائی کے لیے وزیرِاعظم کی دلیل پر غور کرتے ہیں تو ہمارے ذہنوں میں بنیادی سوال یہ اٹھنا چاہیے کہ جو تجویز وزیرِاعظم دے رہے ہیں، اُس سے ہماری سلامتی مضبوط ہو گی یا کمزور۔‘

انھوں نے سوال اٹھایا کہ برطانیہ کی بمباری کو عراق سے شام تک وسیع کر دینے سے، وہ خطرہ کم ہو گا یا بڑھ جائے گا؟ اور کیا اِس سے داعش کا خطرہ مشرقِ وسطیٰ میں بھی رکے گا یا پھیلے گا؟

اسی بارے میں