جرمنی کا ’دولت اسلامیہ‘ کے خلاف مزید اقدامات کا عزم

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption جرمنی نے مالی میں اپنے 650 فوجی بھیجنے کا اعلان پہلے ہی کیا تھاجہاں پر 1500 سے فرانسیسی فوجی تعینات ہیں

جرمنی کی چانسلر اینگلا میرکل نے فرانس کے صدر فرانسوا اولاند کے ساتھ پیرس میں ملاقات کے بعد کہا ہے کہ ان کا ملک شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ کے خلاف لڑنے کے لیے مزید کوششیں کرے گا۔

پیرس میں انھوں نے کہا کہ جرمنی کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ اس معاملے پر ’گہری غور و فکر کرے اور فوری طور پر کارروائی کرے۔‘

اس سے قبل فرانس کے صدر نے پیرس کے حملے کے تناظر میں ان پر اس مہم میں مزید ذرائع فراہم کرنے کے عزم پر زور دیا۔

اینگلا میرکل نے کہا ’ہم کسی بھی دہشت گردی سے بہت مضبوط ہیں۔ بہرحال، دہشت گردی کا مقابلہ تمام ممکنہ طاقت کے ساتھ ہونا چاہیے۔‘

ان کا مزید کہنا تھا ’دولت اسلامیہ کو الفاظ سے قائل نہیں کیا جا سکتا، اس کے ساتھ فوجی طاقت سے لڑا جانا بہت ضروری ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption مالی میں فرانسیسی فوجیوں کا آپریشن جاری ہے

اس دوران فرانس کے بیشتر ارکان پارلیمان نے شام میں ’دولت اسلامیہ‘ پر جنوری کے اوائل کے بعد بھی بمباری جاری رکھنے کے حق میں ووٹ دیا ہے۔

ادھر فرانس کے وزیر دفاع ژاں ایئس لے دریاں نے کہا ہے کہ یورپی یونین میں شامل تمام ممالک نے، شام یا کسی ایسے علاقے میں جہاں فرانسیسی فوج آپریشن میں ملوث ہے، کی براہ راست یا بالواسطہ طور پر مدد کرنے پر اتفاق کیا ہے۔

جرمنی نے مالی میں اپنے 650 فوجی بھیجنے کا اعلان پہلے ہی کیا تھاجہاں پر 1500 سے فرانسیسی فوجی تعینات ہیں۔ اینگلا میرکل کا کہنا ہے اس کا مقصد وہاں پر موجود فرانسیسی فوج کی مدد کرنا ہے۔

جرمنی عراق میں دولت اسلامیہ سے برسرپیکار کرد جنگجوؤں کو پہلے ہی سے تربیت اور ہتھیار فراہم کر رہا ہے۔

پیرس میں ملاقات کے دوران فرانس کے صدر فرانسوا اولاند اور جرمن چانسلر اینگلا میرکل نے یورپی سرحدوں پر کنٹرول سے متعلق بھی تبادلہ خیال کیا۔

دونوں رہنماؤں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ یوروپی ممالک کی سرحدوں پر نگرانی کا نظام بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔

اسی بارے میں