تنزانیہ: دیر سے آنے پر سرکاری ملازمین کو جیل

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption صدر میگوفولی محنتی ہونے کی وجہ سے مشہور ہیں

تنزانیہ میں انسانی حقوق کے سرگرم کارکنوں نے ضلعی کمشنر کی جانب سے سرکاری ملازموں کے کام پر دیر سے آنے پر انھیں جیل میں ڈالنے کے فیصلے کی مذمت کی ہے۔

پال میکونڈا نے دارالسلام شہر کے علاقے کینونڈونی کی پولیس کو ان 20 ملازمین کو جیل میں ڈالنے کا حکم دیا جو ایک میٹنگ میں دیر سے پہنچے تھے۔

میکونڈا کا کہنا ہے کہ حکام اپنے اقدام کی وضاحت کرنے میں ناکام رہے ہیں۔

بدھ کو ہونے والی میٹنگ میں جسے دوبارہ جمعرات کی صبح کیا گیا، افسران دو گھنٹے قبل ہی پہنچ گئے تھے۔

سوشل میڈیا پر تنزانیہ کے لوگوں نے ضلعی کمشنر کے اس اقدام کی بھرپور حمایت کی ہے۔ تاہم انسانی حقوق کے گروہوں نے اس اقدام پر یہ کہہ کر تنقید کی بدنظمی سے بچنے کے لیے قاعدے اور قانون پر عمل کرنا ضروری ہے۔

تنزانیہ میں ہیومن رائٹس ڈیفینڈرز کولیشن کے اونسیمو اولینگروموا نے بی بی سی کو بتایا کہ’اگر کوئی کام کرنے میں دلچسپی نہیں لے رہا تو ہمیں ہمارے پاس موجود قوانین اور طریقۂ کار پر عمل کرنا چاہیے۔‘

تاہم انھوں نے مزید کہا کہ وہ موجودہ صدر کی جانب سے ہر ایک کو ذمہ داری کا احساس دلانے کے لیے کی جانے والے کوششوں کی حمایت کرتے ہیں۔

دار السلام میں بی بی سی کی نامہ نگار تولانانا بوہیلا کا کہنا ہے کہ سرکاری دفاتر میں چائے کے لمبے وقفے اور مسلسل دیر سے آنے پر عام شہری شکایات کرتے رہتے ہیں۔

ان کا مزید کہنا ہے کہ ضلعی کمشنر شاید نو منتخب صدر سے کافی متاثر دکھائی دیتے ہیں جو نتیجہ دینے والے سیاست دان کے طور پر جانے جاتے ہیں۔

اقتدار میں آنے کے بعد سے مگوفولی کو ’دی بلڈوزر‘ کا نام دیا گیا ہے۔

اسی بارے میں