بلیک فرائیڈے پر لوگ دھکے کھانےپرتیار؟

تصویر کے کاپی رائٹ PA
Image caption گذشتہ سال بلیک فرائیڈے کی سیل کے موقعے پر دکانوں میں موجود ویڈیو فوٹیج میں لوگوں کو ٹی وی سیٹس پر لرڑتے ہوئے دیکھا گیا تھا

برطانوی پولیس نے کچھ عرصے سے دکانداروں کو ’بلیک فرائیڈے‘ کے موقعے پر خریداروں کے ہجوم کو قابو میں رکھنے کے لیے مناسب سکیورٹی فراہم کرنے کی ہدایات جاری کی ہیں۔

لیکن لوگ ایک اچھے سودے کی خاطر خبط و جنون میں مبتلا کیوں ہو جاتے ہیں؟

دھکوں، مکوں، جھڑپوں کے بعد آخر ٹی وی مل ہی گیا

پیسہ آپ کو خوشی دے سکتا ہے؟

علی بابا کے ’سنگلز ڈے‘پر نو ارب ڈالر کی سیل

گذشتہ سال بلیک فرائیڈے کی سیل کے موقعے پر دکانوں میں موجود ویڈیو فوٹیج میں لوگوں کو ٹی وی سیٹس پر لرڑتے ہوئے دیکھا گیا تھا۔

ان جھڑپوں کے دوران کچھ لوگ زخمی بھی ہوئے اور نتیجے میں کئی لوگوں کو گرفتار بھی کر لیا گیا تھا۔

مانچسٹر شہر کی ایک دکان میں لڑائیاں ہونے کی وجہ سے ایک خاتون کا ہاتھ بھی ٹوٹ گیا۔

لندن کی میٹروپولیٹن پولیس کے ایک اہلکار نے سماجی ویب سائٹ ٹوئٹر پر لکھا تھا کہ: ’BlackFriday# کے دن پر بھی اگر کافی بنانے کی مشین کی قیمت 20 پاؤنڈ سے کم کر دی جاتی ہے اور اگر خریدار اس کے لیے ایک دوسرے کو دھکے دیتے ہیں تو یہ بھی ایک قسم کا حملہ تصور کیا جاسکتا ہے۔‘

Image caption بلیک فرائیڈے پر لوگ رات بھر دکانوں کے کھلنے کا انتظار کرتے ہیں

لیکن باورچی خانے کے آلات خریدنے کے لیے لوگ اتنے پاغل کیوں ہو جاتے ہیں؟

صارفین کی ایک ماہر نفسیات کیٹ نائٹنگیل کہتی ہیں: ’ آلات کی قلت کو مد نظر رکھ کر بلیک فرائیڈے منعقد کیا جاتا ہے۔ جتنی بھی کم مصنوعات ہوں گی اتنی ہی اُن کی قیمتیں بھی بڑھیں گی۔‘

اسی وجہ سے ایمیزون جیسی بڑی کمپنیاں اِن اشیا کی مقدار اپنی ویب سائٹ پر ہمیشہ ظاہر کرتی ہے تاکہ لوگ انھیں کھونے کے ڈر سے جلد ہی خریدلیں۔

کیٹ نائٹنگیل نے کہا:’ایسی صوت حال میں ہم تھوڑے سے زیادہ لالچی بن جاتے ہیں۔ ہماری بنیادی فطرت جاگ جاتی ہے، چاہے ہمیں اِِِن اشیا کی ضرورت ہو یا نہ ہو۔‘

بلیک فرائیڈے کووہ چیزیں لوگ خریدنے کے لیے تیار ہو جاتے ہیں جن کی انھیں ضرورت بھی نہیں ہوتی، کیونکہ یہ بات ان کے ذہن میں رہتی ہے کہ گذشتہ سال سب سے اچھی چیزیں زیادہ جلدی بک گئی تھیں۔

بلیک فرائیڈے کے دن لوگ ایک دوسرے کے ساتھ ایک طرح کا مقابلہ بھی کرتے ہیں اور یہ دن خریداری کے دن سے زیادہ ذاتی کامیابی کا دن بن جاتا ہے۔

مانچسٹر یونیورسٹی میں فیشن کے کاروبار کے شُعبے کی لیکچرر روزی بورڈمن کہتی ہیں: ’سب لوگ جلدی آتے ہیں۔ ایک بڑا ہجوم دکانوں کے باہرجمع ہو جاتا ہے اور رات کے 12 بجے دروازے کھل جاتے ہیں۔ لوگ جوش میں آجاتے ہیں۔ اور بلیک فرائیڈے ایک طرح کا روایتی دن بن جاتا ہے جس میں بہت سارے پیسے خرچنا عام طور پر قبول کر لیا جاتا ہے۔‘

Image caption برطانوی پولیس نے دکانداروں کو ہجوم کو قابو میں رکھنے کے لیے سکیورٹی انتظامات کرنے کی ہدایت کی ہے

کیٹ نائٹنگیل کے مطابق جب ہم ایک جذباتی اور پر جوش ماحول میں ہوتے ہیں تو ہمارے دماغ اس طرح نہیں چلتے جیسے کہ عام طور پر چلتے ہیں۔

اس طرح کے ماحول کو پیدا کرنے سے صارفین کی توقعات بھی مزید بڑھتی ہیں۔

دکانداروں کی طرف سے جارحانہ قسم کی فروخت کی حکمت عملی اور پر جوش ماحول لوگوں کو اکثر تھکا بھی دیتا ہے اور صارفین فروخت کے نت نئے ہتھکنڈوں سے تنگ بھی آجاتے ہیں۔

ایک مشہور برطانوی سپر مارکٹ ’ ایزڈا‘ نے اعلان کیا ہے کہ وہ اس سال کی بلیک فرائیڈے سیل میں ’صارفین کی تھکاوٹ‘ کی وجہ سے شرکت نہیں کرے گی۔

لیکن بلیک فرائیڈے کا دن جاری رہے گا۔ ایک اچھا سودا ملنے کا احساس لوگوں کو ایک طرح کی کامیابی کا احساس دلواتا ہے جو اپنے آپ ہی ایک انعام کے برابر ہوتا ہے۔

روزی بورڈمن کہتی ہیں کہ گذشتہ سال کے بلیک فرائیڈے کے موقعے پر لوگوں کی بڑی تعداد لمبی قطاروں میں کھڑی تھی لیکن انھیں یہ نہیں معلوم تھا کہ وہ کیا خریدنے آئے تھے۔

انھوں نے کہا: ’انھیں تو بس ایک اچھا سودا چاہیے تھا۔ یہ وہ چیز ہے جس سے لوگ کبھی تنگ نہیں آئیں گے۔‘

اسی بارے میں