نائجیریا میں جلوس میں خود کش دھماکہ، 21 افراد ہلاک

تصویر کے کاپی رائٹ Ibrahim Hassan
Image caption پولیس کا کہنا ہے کہ ابھی یہ کہنا قبل از وقت ہے کہ اس حملے کا ذمہ دار کون ہے

نائجیریا کی کانو ریاست کے حکام اور عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ اہل تشیع کے ایک جلوس میں خودکش دھماکے کے نتیجے میں 21 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

جلوس کے منتظم نے فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کو بتایا کہ خود کش بمبار بھاگتا ہوا جلوس میں داخل ہوا اور اپنے آپ کو اڑا دیا۔

عینی شاہد نے بی بی سی کو بتایا کہ اس واقعے سے کچھ دیر قبل ہی ایک شخص کو بارودی مواد کے ساتھ پکڑا گیا تھا۔

اسلامک موومنٹ آف نائجیریا کے محمد طوری کا کہنا ہے ’اس حملے میں 21 افراد ہلاک اور بہت سے افراد زخمی ہوئے ہیں۔‘

پولیس کا کہنا ہے کہ ابھی یہ کہنا قبل از وقت ہے کہ اس حملے کا ذمہ دار کون ہے۔ تاہم اسلامک موومنٹ آف نائجیریا کے منتظمین نے اس حملے کی ذمہ داری شدت پسند سنی تنظیم بوکو حرام پر ڈالی ہے۔

یہ سالانہ جلوس سات روز تک جاری رہتا ہے اور اس حملے کے بعد بھی یہ جلوس جاری رہا۔

محمد طوری نے کہا ’ہمیں تعجب نہیں ہے کہ ہم پر حملہ کیا گیا ہے کیونکہ یہ صورتحال پورے ملک میں ہے۔‘

یہ سالانہ جلوس کانو سے کدونا ریاست کے شہر زاریا تک جاتا ہے جہاں ملک کی سب سے بڑی شیعہ تنظیم اسلامک موومنٹ آف نائجیریا کا ہیڈ کوارٹر واقع ہے۔

اسی بارے میں