پیرس میں مرنے والوں کی یاد میں تعزیتی تقریب

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption فرانس کی حالیہ تاریخ کے بدترین حملوں میں 130 افراد ہلاک اور 350 سے زائد افراد زخمی ہوئے

فرانسیسی دارالحکومت پیرس میں دو ہفتے قبل ہونے والے حملوں میں ہلاک ہونے والے 130 افراد کی یاد میں فرانس میں سرکاری سطح پر تعزیتی تقریب کا انعقاد کیا جا رہا ہے۔

جمعے کو منعقد کی جانے والی دعائیہ تقریب میں ایک ہزار افراد شرکت کر رہے ہیں جن میں فرانس کے صدر فرانسوا اولاند، حملے میں بچ جانے والے افراد، اور حملے کے متاثرین کے اہل خانہ شامل ہیں۔

پیرس میں بدترین تشدد اور سکیورٹی کارروائیاں: خصوصی ضمیمہ

پیرس کے ایک یرغمالی کی کہانی

تعزیتی تقریب میں ایک منٹ کی خاموشی اختیار کی جائے گی اور متاثرین کے نام پڑھ کے سنائیں جائیں گے۔

فرانس کے دارالحکومت کے مختلف مقامات کو حملہ آوروں نے رائفلز اور خودکش حملہ آور جیکٹوں کی مدد سے ہدف بنایا تھا۔ تاہم بعد میں نام نہاد دولت اسلامیہ کی جانب سے ان حملوں کی ذمہ داری قبول کرلی گئی تھی۔

13 نومبر کو طے شدہ منصوبے کے تحت مسلح حملہ آوروں نے پیرس کے ریستورانوں، شراب خانوں اور ایک کنسرٹ ہال میں اندھادھند فائرنگ اور خودکش دھماکے کیے تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption زاولید کامپلیکس میں ہونے والی تقریب کے دوران صدر فرانسوا اولاند متاثرین کے اہل خانہ سے خطاب کریں گے

تین حملہ آوروں نے پیرس کے شمالی علاقے ساں ڈنی میں واقع سٹڈ دا فرانس سٹیڈیم میں جاری فرانس اور جرمنی کے میچ کے دوران اندر داخل ہونے کی کوشش کی تھی اور وہاں موجود اہلکاروں کی جانب سے روکے جانے پر خود کو دھماکے سے اڑا لیا تھا۔

فرانس کی حالیہ تاریخ میں یہ بدترین حملے ہیں جن میں 350 سے زائد افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔

زاولید کامپلیکس میں ہونے والی تقریب کے دوران صدر فرانسوا اولاند متاثرین کے اہل خانہ سے خطاب کریں گے۔

فرانس کے صدر نے ملک بھر میں لوگوں سے کہا ہے کہ وہ ’اپنے گھروں پر نیلے، سفید، اور سرخ رنگ کا پرچم لہرا کر اس تقریب کا حصہ بنیں۔‘

حکومتی ترجمان سٹیفان لی فال کا کہنا ہے کہ ’ہم نے ایسی تجویز پیش کرنے کی کوشش کی ہے جس کی مدد سے تمام فرانسیسی جمعے کے روز ہونے والی تقریب میں شرکت کرسکیں گے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption پیرس حملوں میں کم از کم نو افراد براہ راست ملوث تھے جو اپنے سرغنہ عبدالحمید اباعود سمیت ہلاک ہو چکے ہیں

تاہم چند متاثرین کے اہل خانہ نے زاولید کامپلیکس میں ہونے والی تعزیتی تقریب میں شرکت کا دعوت نامہ قبول نہیں کیا ہے۔

دعوت نامہ رد کرنے والے ایک خاندان کے فرد نے فرانسیسی میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس تقریب میں شرکت اس لیے نہیں کر رہے کیونکہ رواں سال کے اوائل میں ہونے والے حملوں کے بعد بھی عوام کی حفاظت کے لیے خاطر خواہ اقدامات نہیں کیے گئے تھے۔

کہا جا رہا ہے کہ حملوں میں کم از کم نو افراد براہ راست ملوث تھے جو اپنے سرغنہ عبدالحمید عبود سمیت ہلاک ہو چکے ہیں تاہم مزید دو مشتبہ افراد کی تلاش بڑے پیمانے پر فرانس اور بیلجیم میں جاری ہے جن میں صالح عبدالسلام بھی شامل ہیں۔

اسی بارے میں