ترک صحافیوں پر جاسوسی کا مقدمہ درج

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption صحافیوں سے جاری کی گئی ویڈیو فوٹیج اور رھورٹ کے بعد ترکی میں ایک سیاسی طوفان آچکا ہے

ترکی کے خفیہ اداروں کی طرف سے مبینہ طور پر شدت پسندوں کو اسلحہ فراہم کرنے کی خبر شائع کرنے پر ترک حکومت نے ملک کے دو معروف صحافیوں پر جاسوسی کے الزامات میں مقدمات دائر کیے ہیں۔

’جمہوریت‘ نامی اخبار میں ان میں سے ایک صحافی ایڈٹر ان چیف اور دوسرا انقرہ میں اسی اخبار کے دفتر کے بیورو چیف ہیں۔

’کہنے کی آزادی بہت مگر بعد کی محدود‘

’ترکی روس کے ساتھ کشیدگی کے خاتمے کا خواہشمند‘

اگر جمہوریت اخبار کے ایڈٹر ان چیف جن دندار اور انقرہ شہر کے بیورو چیف اردم گل کو مجرم پایا جاتا ہے تو انھیں عمر قید کی سزا سنائی جا سکتی ہے۔

ان کی رپورٹ اور ویڈیو فوٹیج شائع ہونے کے بعد ترکی میں ایک سیاسی طوفان کھڑا ہو گیا ہے اور ملک کے صدر نے خود اُن کے خلاف ایک مقدمہ دائر کیا ہے۔

ترکی کو پریس کی آزادی کے اس کے ریکارڈ پر شدید تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

دونوں صحافیوں نے اپنے خلاف الزامات کی تردید کی ہے۔

انھوں نے اپنی رپورٹ میں کہا تھا کہ ترکی کی انٹیلی جنس ایجنسی ایم آئی ٹی نے شام میں شدت پسندوں کو ٹرکوں کے ذریعے اسلحہ پہنچایا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption صدر رجب طیب اردگان نے ذاتی طور پر اخبار ’جمہوریت‘ کے خلاف ایک مقدمہ دائر کیا ہے

صحافیوں کی جانب سے جاری کی گئی رپورٹ اور ویڈیو فوٹیج میں ترک پولیس اہلکاروں کو ٹرک روکتے ہوئے دکھایا جاتا ہے جن میں انھیں ہتھیار اور بارود کے ڈبے ملتے ہیں۔

ترکی کی حکومت نے دعویٰ کیا تھا کہ انٹیلی جنس ایجنسی کے ٹرک شام میں موجود ترکمان اقلیت کے لیے امداد لےکر جا رہے تھے۔

صدر رجب طیب اردوغان نے ذاتی طور پر اخبار ’جمہوریت‘ کے خلاف ایک مقدمہ دائر کیا ہے۔

اردوغان نے رواں سال مئی میں ٹی وی پر کہا تھا کہ: ’یہ اخبار جاسوسی کی کارروائیوں میں ملوث تھا۔ اس خبر کو لکھنے والے کو ایک بڑی قیمت ادا کرنی ہوگی۔ ‘

جان دندار اور اردم گل پر جاسوسی کرنے اور ’فتح اللہ گولن‘ کی تحریک کو مدد فراہم کرنے کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔

یہ تحریک ماضی میں صدر اردوغان کی اتحادی تھی لیکن اب اسے ترک حکومت نے ایک دہشت گرد تنظیم قرار دیا ہے۔

جان دندار نے کہا: ’وہ ہمارے سے پوچھتے ہیں کہ ہم نے وہ خبر کیوں شائع کی تھی۔ صحافت کی تاریخ میں ’واٹر گیٹ‘ اور ’وکی لیکس‘ جیسی کئی ایسی مثالیں ہیں جو یہ ظاہر کرتی ہیں کہ ریاستیں کچھ حقائق خفیہ رکھنا چاہتی ہیں۔ لیکن انھیں انکشاف کرنے میں سب کا بھلا ہے۔‘

کئی صحافتی اداروں اور میڈیا گروہوں نے دونوں صحافیوں کے خلاف الزامات پر شدید تنقید کی ہے۔

اسی بارے میں