پیرس حملوں میں استعمال ہونے والے بیشتر ہتھیار ’سربیا میں بنے‘

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption ایم 70 رائفلز بوسنیا، میسی ڈونیہ اور سلووینیا میں فوج کے لیے بھجوائی جاتی تھیں

سربیا کی ہتھیاروں کی فیکٹری کے سربراہ کا کہنا ہے کہ پیرس حملوں میں استعمال ہونے والے بیشتر ہتیھار 80 کے عشرے کے آخر میں سربیا میں بنائے گئے تھے۔

زاستاوا نامی ہتھیاروں کی فیکٹری کے ڈائریکٹر میلاجکو برازاکووچ کا کہنا ہے کہ انھوں نے پولیس کی جانب سے ملنے والی آٹھ رائفلوں کے سیریل نمبر چیک کیے ہیں۔

خبر رساں ادارے روئٹرز سے گفتگو میں ان کا کہنا تھا کہ ایم 70 رائفلز بوسنیا، مقدونیہ اور سیلونیہ میں فوج کے لیے بھجوائی جاتی تھیں۔

حملہ آوروں نے تھیٹر، ریستوران اور سٹیڈیم کو نشانہ بنایا

ایم حملہ آور بچ نکلنے میں کامیاب رہا

خیال رہے کہ 13 نومبر کو پیرس میں سات مقامات پر ہونے والے حملوں کے نتیجے میں 130 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption پیرس حملوں کے نتیجے میں 130 افراد ہلاک ہوگئے تھے

ہتھیاروں کی فیکٹری کے ڈائریکٹر میلاجکو برازاکووچ نے کہا کہ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ وہ رائفلیں ہم نے ہی بنائی تھیں۔

وہ کہتے ہیں کہ 1990 کے بعد کوئی بھی انھیں اپنے قبضے میں لے سکتا تھا۔

ایم 70 رائفل سوویت اے کے 47 کی جدید شکل ہے۔

زاستاوا نامی ہتھیاروں کی فیکٹری کراوجیواک میں موجود ہے۔ یہ علاقہ اس سے قبل زودی سروینا زاستاوا کہلاتا تھا۔ یہاں سے صرف چھوٹے ہتھیار یوگوسلاویہ کی فوج اور پولیس کے لیے بھجوائے جاتے تھے۔ 1990 کی دہائی میں جب بلقان میں جنگیں ہوئیں تو یہ ہتھیار وہاں کے شہریوں کے ہاتھوں میں بھی چلے گئے۔

فلیمش پیس انسٹی ٹیوٹ سے وابستہ نلس دوکویٹ کا کہنا ہے کہ ان میں سے بہت سے ہتھیار مغربی یورپ میں سمگل ہوتے رہے۔

یہ بھی اطلاعات موصول ہوتی رہی ہیں کہ سابقہ یوگوسلاویہ کے یہ ہتیھار شامی باغی شام میں جاری خانہ جنگی میں بھی استعمال کر رہے ہیں۔

اسی بارے میں