ترکی اور یورپی یونین میں تارکینِ وطن کے معاملے پر معاہدہ

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption رواں سال نو لاکھ کے قریب تارکین وطن یورپ پہنچے ہیں

یورپ میں تارکینِ وطن کی آمد کو کنٹرول کرنے کے لیے ترکی اور یورپی یونین کے درمیان معاہدہ طے پا گیا ہے۔

ترکی مہاجرین کو اپنی سرحدوں میں محدود رکھنے کے بدلے میں تین ارب ڈالر سے زائد رقم اور سیاسی مراعات لےگا۔

ترکی کے وزیراعظم احمد داؤد اوغلو برسلز میں یورپی یونین کے حکام کے ساتھ ملاقات میں معاہدہ طے پا جانے کے بعد اپنے بیان میں آج کے دن کو یورپی یونین کے ساتھ تعلقات کا ’تاریخی دن‘ قرار دیا۔

یورپ کو 2017 تک 30 لاکھ مہاجرین کا سامنا

شادی کےخرچ کی رقم پناہ گزینوں کے نام

’معاہدے پر عمل کیسے ہوگا یہ طے نہیں ہو سکا‘

خیال رہے کہ رواں برس نو لاکھ پناہ گزین یورپ جا چکے ہیں۔ ان میں سے بیشتر کا تعلق شام، عراق اور افغانستان کے شورش زدہ علاقوں سے ہے اور اپنے سفر کے دوران انھوں نے ترکی میں عارضی طور پر قیام بھی کیا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption وزیراعظم داؤداوغلو کا کہنا ہے کہ یہ ترکی کے لیے ’ایک نیا آغاز‘ ہے

اس سے قبل یہ بات سامنے آئی تھی کہ یورپی یونین نے دو برسوں میں ترکی کو تین ارب پاؤنڈ دینے کی پیش کش کی ہے تاکہ وہ اپنی سرحدوں پر سخت انتظامات اور ملک میں موجود تارکین وطن اور پناہ گزینوں کی حالت زار کو بہتر بنا سکے۔

دوسری جانب انقرہ کو امید ہے کہ ان مذاکرات کے ذریعے ترکی کی یورپی یونین کی رکنیت کی درخواست کو ایک نئی تحریک بھی ملے گی۔

ترکی اپنے شہریوں کے لیے یورپ میں ویزے کی پابندیوں کا خاتمہ چاہتا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption ترکی اپنے سرحدوں کی سخت پابندیوں اور اپنے ملک میں پناہ گزینوں کو قیام دینے کے بدلے میں رقم اور سیاسی مراعات حاصل کرنے کی امید کرتا ہے

تاہم ترکی میں بی بی سی نامہ نگار مارک لووین کا کہنا ہے کہ یورپی یونین کے کچھ رکن ممالک میں ترکی کے سامنے جھکنے کے حوالے سے تحفظات پائے جاتے ہیں جہاں حکومت کی جانب سے قانون اور جمہوریت کے احترام کے حوالے سے شدید خدشات پائے جاتے ہیں۔

ترک صدر کے خلاف آرٹیکل لکھنے پر بائیں بازو کے حامی ترک اخبار مدیر اعلیٰ کو رواں ہفتے ہی گرفتار کیا گیا ہے۔

تاہم دوسری جانب مذاکرات کے بعد یورپین کمیشن کے صدر جین کلاڈ ینکر کا کہنا تھا کہ یہ معاہدے ’اس صورتحال میں لے کر نہیں جائے گا کہ جہاں ہم ترکی سے اپنے بنیادی فرق اور اختلافات کو بھول جائیں، انسانی حقوق اور آزادی صحافت۔‘

اسی بارے میں