عراق: رمادی کے شہریوں کو شہر چھوڑنے کی ہدایت

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption رمادی کے رہائیشیوں کے ایک ترجمان کا کہنا ہے کہ نام نہاد تنظیم دولت اسلامیہ کے شدت پسندوں نے ہزاروں خاندانوں کو یرغمال بنایا ہوا ہے

عراقی فوج نے ملک کے صوبے انبار کے دارالحکومت رمادی کے رہائشیوں کو شہر چھوڑنے کی ہدایت کی ہے جہاں وہ شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ کے قبضے سے شہر پر واپس کنٹرول حاصل کرنے کے لیے کارووائی کرنے جا رہی ہے۔

ایک سکیورٹی اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ فوج نےشہر پر طیاروں کے ذریعے پرچیاں پھینکی ہیں جن میں رہائشیوں کو خبر دار کیا گیا ہے کہ وہاں اگلے 24 گھنٹوں میں فوجی کارروائی شروع کر دی جائے گی اس لیے وہ شہر چھوڑ دیں۔

عراقی افواج رمادی پر آخری حملے کے لیے تیار

رمادی کے قریب خودکش حملہ، دو عراقی فوجی کمانڈر ہلاک

سکیورٹی اہلکار نے کہا: ’سکیورٹی اہکاروں نے رمادی کے رہائیشیوں کو آخری دفعہ ہدایت دی ہے۔ اس کے بعد ہم شہر پر حملہ کر دیں گے، چاہے شہری اندر ہوں یا نہ ہوں۔‘

تاہم رمادی کے رہائیشیوں کے ایک ترجمان نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنے حملے کو ملتوی کردیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption گذشتہ ماہ امریکی فوج نے کہا تھا کہ عراقی فوج اور حکومت نواز ملیشیا نے رمادی پر محاصرہ کر لیا ہے اور ایک حتمی حملے کے حالات بھی مقرر کر لیے ہیں

ترجمان کا کہنا ہے کہ نام نہاد تنظیم دولت اسلامیہ کے شدت پسندوں نے ہزاروں خاندانوں کو یرغمال بنایا ہوا ہے۔

انھوں نے مزید کہا کہ دولت اسلامیہ نے شہر میں چوکیاں قائم کی ہوئی ہیں اور لوگوں کو رمادی چھوڑنے پر قتل کرنے کی دھمکیاں دی ہیں۔

عراقی فوج کی جانب سے آنے والی ہدایت ٹی وی کے سرکاری چینل پر بھی نشر کی گئی جس میں لوگوں کو جنوب سے شہر چھوڑنے کا ایک راستہ بتایا گیا ہے جسے فوج نے محفوظ کیا ہوا ہے۔

گذشتہ مئی میں شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ نے عراقی فوج کے ساتھ لڑائی میں اسے ایک شرمناک شکست دے کر رمادی پر قبصہ حاصل کر لیا تھا۔

گذشتہ ماہ امریکی فوج نے کہا تھا کہ عراقی فوج اور حکومت نواز ملیشیا نے رمادی کامحاصرہ کر لیا ہے اور ایک حتمی حملے کی تیاری بھی کر کر لی ہے۔

امریکی فوج کا کہنا ہے کہ رمادی میں دولت اسلامیہ کے 600 سے لیکر 1000 شدت پسند موجود ہیں۔

اسی بارے میں