کیا دولتِ اسلامیہ پسپا ہو رہی ہے؟

جان کیری تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption جان کیری نے کہا ہے کہ دولتِ اسلامیہ پسپا ہو رہی ہے

امریکی وزیرِ خارجہ جان کیری کہتے ہیں کہ اتحادی افواج دولتِ اسلامیہ کو پیچھے دھکیل رہی ہیں اور دولت اسلامیہ کے قبضے سے 30 فیصد علاقہ نکل چکا ہے۔

لیکن کیا واقعی دولتِ اسلامیہ پسپا ہو رہی ہے؟ بی بی سی کے ’مور اور لیس‘ پروگرام میں اعداد و شمار اور ان کی اہمیت کا جائزہ لیا گیا ہے۔

امریکی وزیرِ خارجہ جان کیری نے کہا تھا کہ ’ہم نے زیادہ علاقہ حاصل کر لیا ہے، داعش (دولتِ اسلامیہ) کے پاس کم علاقہ ہے۔‘ یہ بات انھوں نے پیرس میں شدت پسندوں کا نشانہ بننے والوں کی تعزیت پر آنے کے بعد نومبر میں کہی تھی۔ اس حملے میں 130 افراد ہلاک ہوئے تھے۔

ان حملوں کے بعد دولتِ اسلامیہ کے خلاف فرانس کے فضائی حملے بڑھ گئے تھے۔ طیارہ بردار جہاز چارلز ڈی گال کی تعیناتی کے بعد فضائی حملوں کی صلاحیت تین گنا زیادہ ہو گئی ہے۔

جان کیری اپریل میں آنے والی امریکی محکمۂ دفاع کی اس رپورٹ کی طرف اشارہ کر رہے تھے جس میں کہا گیا تھا کہ دولتِ اسلامیہ کے خلاف امریکی سربراہی والے اتحاد نے اس جنگجو تنظیم کو اتنا پیچھے دھکیل دیا ہے کہ اس کے ہاتھ سے 25۔30 فیصد علاقہ نکل چکا ہے جس پر اس نے پہلے قبضہ کیا تھا۔

پینٹاگون کی رپورٹ کے مطابق اس کا مطلب ہے 13000 سے 17000 مربع کلومیٹر علاقہ دولتِ اسلامیہ سے واپس حاصل کر لیا گیا ہے، اور اس میں شامی شہر کوبانی اور تل حمیس شامل ہیں۔ اس کے علاوہ موصل جیسے دوسرے شہروں کے گرد گھیرا تنگ کیا جا رہا ہے۔

لیکن کیا دولتِ اسلامیہ کے قبضے سے واقعی علاقے نکل رہے ہیں؟ اور اگر ہاں، تو پھر کتنے؟

تصویر کے کاپی رائٹ epa
Image caption پیرس پر حملوں کے بعد دولتِ اسلامیہ کے خلاف فرانسیسی فضائی حملے بڑھ گئے ہیں

بی بی سی کے سکیورٹی کے نامہ نگار فرینک گارڈنر کہتے ہیں کہ ڈیوڈ کیمرون کا یہ اصرار کہ ’وہ (دولتِ اسلامیہ) 25 فیصد علاقے کھو چکی ہے، بالکل گمراہ کن ہے۔‘

انھوں نے خبردار کیا کہ ’حقیقت یہ ہے کہ صرف گذشتہ برس میں انھوں نے پیلمائرا پر قبضہ کیا، انھوں نے رمادی پر قبضہ کیا اور ایسے کوئی شواہد نہیں ہیں کہ وہ موصل چھوڑ رہے ہیں جو عراق کا دوسرا سب سے اہم شہر ہے۔ وہ اب بھی وہاں موجود ہیں اور کہیں نہیں گئے۔‘

بی بی سی ریڈیو 4 کے ’مور اور لیس‘ پروگرام سے بات کرتے ہوئے فرینک گارڈنر نے کہا کہ ’اس میں کوئی شک نہیں کہ فضائی حملوں سے دولتِ اسلامیہ کو نقصان پہنچ رہا ہے۔ امریکیوں کے مطابق وہ آئے دن کسی درمیانے یا اعلیٰٰ درجے کے رہنما سے ہاتھ دھو رہے ہیں لیکن وہ فوراً ہی اس کا متبادل ڈھونڈ لیتے ہیں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption ماہرین کا خیال ہے کہ فضائی حملوں سے دولتِ اسلامیہ کو نقصان پہنچ رہا ہے

اوکسفرڈ ریسرچ گروہ کے گلوبل سکیورٹی کنسلٹنٹ پروفیسر پال راجرز کو ان اعداد و شمار پر کچھ شبہات ہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ ’یہ سچ ہے کہ دولتِ اسلامیہ کی عراق میں پیش قدمی رک گئی ہے اور شمال مشرقی علاقوں میں جہاں کرد آگے بڑھے ہیں وہاں کچھ پسپائی بھی دیکھنے میں آئی ہے، جیسے تکریت اور بیجی کے گرد، جو بغداد کے شمال میں ہیں۔‘

حکومتی فوج نے تکریت واپس لے لیا ہے اور لگتا ہے کہ بیجی کا شہر بھی حکومت کے ہاتھوں میں ہے۔ لیکن فلوجہ، رمادی (جہاں کافی عرصے سے محاصرہ ہے) اور موصل میں دولتِ اسلامیہ کو نیچے دکھانا انتہائی مشکل ثابت ہوا ہے۔

راجرز کا کہنا ہے کہ اس بات کے شواہد ہیں کہ دولتِ اسلامیہ شام میں اپنے علاقے بڑھا رہی ہے، لیکن 25۔30 فیصد کے بالکل بدلے ہوئے اعداد و شمار بھی اس صورت میں درست بھی ہو سکتے ہیں اگر ہم اہم آبادی والے علاقوں کی بجائے وہ علاقے دیکھیں جہاں آبادی بہت کم ہو چکی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption عراقی فوج نے تکریت کے علاقے پر دوبارہ قبضہ کر لیا تھا

لیکن راجرز یہ نہیں مانتے کہ علاقے پر قبضہ کامیابی کی صحیح عکاسی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ہمیں اس تنظیم کی صلاحیت کی طرف دیکھنا چاہیے۔

پریشان کن بات یہ ہے کہ دولتِ اسلامیہ بھی اب وہی کر رہی ہے جو القاعدہ دس برس پہلے کر رہی تھی یعنی بیرون ممالک حملے کرنا۔

کچھ عرصہ پہلے تک اس کی توجہ اپنے جغرافیائی علاقے بنانے پر اور اپنی خلافت قائم کرنے پر تھی، جسے وہ اپنی ابتدائی خلافت کہتے ہیں۔ اب یہ بیرون ممالک کی طرف بڑھ رہی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ پیرس پر حملے، روسی طیارے کی تباہی اور بیروت میں حالیہ حملوں سے لگتا ہے کہ انھوں نے اپنی توجہ بدلی ہے۔

اسی بارے میں