برطانوی دارالعوام نے شام میں فضائی حملوں کی منظوری دے دی

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption حمایت حاصل ہونے کے بعد برطانوی فضائیہ جلد شام میں فضائی کارروائیوں کا آغاز کر دے گی

برطانوی دارالعوام نے خود کو دولت اسلامیہ کہنے والی شدت پسند تنظیم کے خلاف شام میں برطانیہ کو فضائی کارروائیاں کرنے کا اختیار دے دیا ہے۔

بدھ کو ہونے والی ووٹنگ میں 397 اراکین نے شام میں دولت اسلامیہ کے خلاف فضائی کارروائیوں کی حمایت میں ووٹ دیا جبکہ اس کی مخلافت میں 223 ووٹ پڑے۔

دارلعوام کی جانب سے شام میں فضائی کارروائیوں کی اجازت ملنے کے چند گھنٹوں کے کے بعد ہی قبرص میں رائل ایئر فورس کے فضائی اڈے پر بم بردار برطانوی ٹورنیڈو جنگی طیاروں نے پرواز کی ہے۔

برطانوی وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون نے ایوان میں بحث کا آغاز کرتے ہوئے کہا کہ ان کارروائیوں کا مقصد دہشت گرد حملوں سے’برطانوی عوام کو محفوظ رکھنا ہے۔‘

ڈیوڈ کیمرون نے کہا کہ ’انھوں نے ملک کو محفوظ رکھنے کے لیے صحیح فیصلہ لیا ہے۔‘دوسری جانب اس فیصلے کے مخالفین کا کہنا ہے کہ یہ ایک غلطی ہے۔

بی بی سی کے اندازوں کے مطابق لیبر جماعت کے 67 ارکان پارلیمان نے بھی حکومت کی حمایت میں ووٹ ڈالے ہیں۔

حمایت حاصل ہونے کے بعد برطانوی فضائیہ جلد شام میں فضائی کارروائیوں کا آغاز کر دے گی۔ جبکہ چار برطانوی ٹورنیڈو جنگی طیاروں نے قبرص میں برطانوی فضائی اڈے پرواز بھری ہے۔تاہم ان طیاروں کی منزل کے بارے میں معلوم نہیں ہے۔

فضائی اڈے پر موجود بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ دونوں لڑاکا طیارے جب واپس آئے تو وہ بموں سے لیس نہیں تھے۔جبکہ وزارتِ دفاع کی جانب سے یہ تصدیق ہونا باقی ہے کہ برطانوی لڑاکا طیاروں نے شام میں بمباری کی ہے۔

بی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق عراق میں برطانوی افواج دولتِ اسلامیہ کے خلاف فضائی کارروائی میں شامل ہیں اور شام میں ایسے حملے کرنے کے لیے وہ کافی عرصے سے تیاری کر رہے تھے۔

برطانوی وزیر خارجہ فلپ ہیمنڈ کا کہنا ہے کہ ’برطانوی طیاروں کو جلد ہی تعینات کیا جائے گا، ممکنہ طور پر جمعرات کو ہی۔‘

دوسری جانب امریکی صدر باراک اوباما نے برطانوی دارلعوام کے اس فیصلے کا خیر مقدم کیا ہے۔

اس سے قبل وزیراعظم نے فضائی حملوں کے مخالفین کو دہشت گردوں کا ہمدرد کہنے بیان پر معافی کے مطالبے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ وہ ’ان لوگوں کا احترام کرتے ہیں، جو ان کے موقف سے اتفاق نہیں کرتے۔‘

پارلیمان میں بحث کے بعد منتخب ارکان ووٹنگ کے ذریعے اس بارے میں فیصلہ کریں گے کہ کیا برطانیہ کو رقہ میں شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ کے اہداف کو نشانہ بنانے کے لیے امریکہ، فرانس اور روس کے ساتھ فضائی کارروائیوں میں شامل ہونا چاہیے یا نہیں۔

توقع ہے کہ ایوان میں ووٹنگ گرینج کے معیاری وقت کے مطابق رات دس بجے ہو گی۔

برطانوی وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون شام میں دولت اسلامیہ کے اہداف کے خلاف کارروائی کرنے کے حق میں ہیں اور وہ دولت اسلامیہ کو برطانیہ کے لیے خطرہ قرار دیتے ہیں۔

برطانوی حزب اختلاف لیبر پارٹی کے رہنما جیرمی کوربن رقہ پر فضائی بمباری کے مخالف ہیں لیکن انھوں نے اپنی جماعت کے ارکان کو آزادانہ طور پر ووٹ دینے کا اختیار دے دیا ہے۔

حزب اختلاف کے کم از کم 50 ارکان اس مسئلے پر حکومت کے حق میں ووٹ دینے کے لیے تیار ہیں اور ڈیموکریٹک یونینسٹ پارٹی اور لبرل ڈیموکریٹس کے ارکان بھی دولت اسلامیہ کے خلاف کارروائی کے حق میں ہیں۔

توقع ہے کہ وزیر اعظم اس شام میں جاری گذشتہ چار سال سے جاری جنگ میں برطانیہ کی عملی شمولیت کے بارے میں پارلیمان کی منظوری حاصل کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔

لیکن چھ مختلف جماعتوں سے تعلق رکھنے والے 110 کے قریب ارکان، جن میں سکاٹش نیشنلٹ پارٹی (ایس این پی) کے ارکان بھی شامل ہیں، شام میں فضائی کارروائیاں کرنے کی مخالفت کر رہے ہیں اور انھوں نے ایک ترمیم پر دستخط کیے ہیں جس میں فضائی کارروائی کو روکنے کی بات کی گئی ہے۔

حکومت کی طرف سے پیش کی گئی تحریک میں صرف دولت اسلامیہ کے خلاف فضائی بمباری کرنے کی بات کی گئی ہے۔

پارلیمان میں تحریک پیش کیے جانے سے قبل ڈیوڈ کیمرون نے فضائی کارروائی کی مخالفت کرنے والے حزب اختلاف کے رہنما جیرمی کوربن اور ان کے ہم خیال لوگوں کو ’دہشت گردوں کے ہمدرد‘ قرار دے کر ماحول کو کشیدہ کر دیا ہے۔