’دولتِ اسلامیہ کے دس کارکن تھائی لینڈ میں داخل‘

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption تاہم تھائی پولیس کا کہنا ہے کہ وہ اب تک ان شامی باشندوں کی موجودگی کی تصدیق نہیں کر سکے ہیں

تھائی لینڈ کی پولیس کا کہنا ہے کہ انھیں روس کی جانب سے خبردار کیا گیا تھا کہ شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ سے تعلق رکھنے والے دس شامی باشندے اکتوبر میں روسی شہریوں پہ حملے کرنے کے لیے تھائی لینڈ میں داخل ہوئے ہیں۔

تھائی پولیس کی ایک افشا ہونے والی دستاویز میں کہا گیا ہے کہ یہ معلومات روسی انٹیلی جنس ادارے کی جانب سے فراہم کی گئی تھیں۔ خیال رہے کہ سنہ 2013 میں 15 لاکھ سے زائد روسی شہریوں نے تھائی لینڈ کا سفر کیا تھا۔

تاہم تھائی پولیس کا کہنا ہے کہ وہ اب تک ان شامی باشندوں کی موجودگی کی تصدیق نہیں کر سکے ہیں۔ ساتھ ہی انھوں نے کہا کہ ’گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے۔‘

روس نے رواں سال ستمبر کے آخر میں دولت اسلامیہ کے خلاف شام میں حملوں کا آغاز کیا تھا۔

دولت اسلامیہ سے تعلق رکھنے والے ایک گروہ نے رواں سال اکتوبر میں مصر کے جزیرہ نما سینا میں روسی ہوائی کمپنی کے جہاز کو گرانے کی ذمہ داری قبول کی تھی۔ اس واقعے میں جہاز پر سوار 224 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption بتایا گیا ہے کہ بنکاک بھی دوسرے مقامات کے ساتھ ساتھ دولتِ اسلامیہ کے ممکنہ حملوں کا ہدف ہو سکتا ہے

افشا ہونے والی سرکاری دستاویز پہ ’اشد ضروری‘ لکھا ہوا ہے۔ یہ دستاویز رواں سال 27 نومبر کو تھائی لینڈ سپیشل برانچ کے کمانڈر کی جانب سے پولیس یونٹوں کو بھیجی گئی تھی۔

دستاویز میں کہا گیا ہے کہ روس کی فیڈرل سکیورٹی سروس (ایف ایس بی) نے تھائی پولیس کو اطلاع دی ہے کہ رواں سال اکتوبر کی 15 اور 31 تاریخوں کے درمیان شامی شدت پسند روسی شہریوں کو نشانہ بنانے کےلیے تھائی لینڈ میں داخل ہوئے ہیں۔

دستاویز میں کہا گیا ہے ’وہ انفرادی طور پر سفر کر رہے ہیں۔ ان میں سے چار پتایا، دو فوکٹ، دو بینکاک، اور دو کسی نامعلوم مقام پر گئے ہیں۔‘

دستاویز میں مزید کہا گیا ہے کہ منصوبے کا مقصد ’روسی شہریوں اور روس کے اتحاد‘ کو نشانہ بنانا ہے۔ دستاویز میں ممکنہ اہداف کے اردگرد حفاظتی انتظامات سخت کرنے کے لیے کہا گیا ہے۔

فوکٹ اور پتایا کے تفریحی مقامات روسی سیاحوں میں بہت مقبول ہیں اور کرسمس اور نئے سال کے موقعے پر وہاں بہت ہجوم ہوتا ہے۔

تاہم تھائی حکام کا کہنا ہے کہ وہ ابھی اس بات کا تعین کر رہے ہیں کہ کیا واقعی شامی شہری ملک میں داخل ہوئے ہیں۔

تھائی لینڈ کی نیشنل سکیورٹی کونسل کے سربراہ جنرل تھاوپ نیٹ نیوم کا کہنا ہے کہ ’ہمیں اب تک کسی قسم کی غیر معمولی نقل و حرکت نہیں دکھائی دی ہے۔ یقین رکھیں، سب ٹھیک ٹھاک ہے۔‘

تھائی لینڈ کے امیگریشن کے ادارے کے کمشنر ناتھا تھرون پراؤسونٹرون نے برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا ہے کہ رواں سال اکتوبر میں 231 شامی شہری ملک میں داخل ہوئے تھے جن میں سےصرف 21 افراد وہاں رکے ہیں۔ ان افراد کے حوالے سے کسی قسم کی ’بے ضابطگی نہیں‘ دیکھی گئی ہے۔

اسی بارے میں