دولت اسلامیہ کی آمدن اور اخراجات کیا ہیں؟

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

برطانوی پارلیمان کی جانب سے شام میں شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ کےخلاف کارروائی کی منظوری کے بعد برطانوی جنگی طیاروں نے شام کے ایسے تیل کے میدانوں کو نشانہ بنانا شروع کر دیا ہے جن پر اس تنظیم کا قبضہ ہے۔

امید کی جا رہی ہے کہ اس سے دولتِ اسلامیہ کی آمدن پر زد پڑے گی۔

امریکی وزارت خزانہ کے مطابق رواں برس اکتوبر تک دولتِ اسلامیہ عراق اور شام میں اپنے زیر تسلط علاقوں میں واقع تیل کے کنوؤں سےماہانہ چار کروڑ 70 لاکھ ڈالر کماتی ہے۔

امریکی وزارت خزانہ کے مطابق شام میں دولتِ اسلامیہ کے زیر قبضہ علاقوں میں تیل کے کنوؤں پر امریکی قیادت میں قائم اتحاد کے فضائی حملوں کی وجہ سے اس کی شام سے ہونے والی تیل کی کمائی ایک تہائی رہ گئی ہے۔

البتہ ایک امریکی کرنل کے مطابق فضائی حملوں کی وجہ سے دولتِ اسلامیہ کی تیل کی آمدن میں عارضی کمی واقع ہوئی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Welayat Salahuddin via AFP
Image caption آئی ایس اپنے ہر جنگجو کو ماہانہ 400 ڈالر کی تنخواہ ادا کرتی ہے اور یہ تنخواہ شامی باغیوں کی تنخواہ سے زیادہ ہے

البتہ دولت اسلامیہ کی آمدن کا ذریعہ صرف تیل ہی نہیں ہے۔ اس شدت پسند تنظم کا دعویٰ ہے کہ 2015 کے لیے اس کا بجٹ دو ارب ڈالر ہے۔

دو ارب ڈالر کے سالانہ بجٹ کے ساتھ دولت اسلامیہ تاریخ کی امیر ترین شدت پسند تنظیم ہے۔

مالیاتی خبر رساں ادارے بلوم برگ کے مطابق آئی ایس سالانہ 20 کروڑ ڈالر فصلوں کی کاشت سے حاصل کرتی ہے جن میں پوست کا کاشت بھی شامل ہے جسے ہیروئن کی شکل میں یورپ سمگل کیا جاتا ہے۔

بلوم برگ کے مطابق دولت اسلامیہ نے 2014 میں بینکوں کو لوٹ کر تقریباً ایک ارب ڈالر کمائے تھے۔اس کے علاوہ اس نے اپنے زیر قبضہ علاقوں سے قیمتی نودارات کو بیچ کر کروڑوں ڈالر حاصل کمائے ہیں۔ ایک ٹریڈر نے بی بی سی کو بتایا کہ بعض نودارت دس دس لاکھ ڈالر کے بکے ہیں۔

دولتِ اسلامیہ اپنے زیر قبضہ علاقوں سے ٹیکسوں کی شکل میں ماہانہ دسیوں لاکھ ڈالر کماتی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption دولت اسلامیہ مغویوں کی رہائی کے لیے تاوان کی شکل میں رقوم حاصل کرتی ہے

اقوام متحدہ کے ادارے آفس آف ہائی کمشنر فار ہیومن رائٹس کے مطابق دولت اسلامیہ عورتوں اور بچوں کی سمگلنگ سے بھی لاکھوں ڈالر حاصل کرتی ہے۔ اس کے علاوہ وہ گرفتار ہونے والے زخمی افراد کی لاشیں اور ان کے اعضا کو بھی بیچ کر رقم بٹورتی ہے۔ دولت اسلامیہ مغویوں کی رہائی کے بدلے بھی کئی ملین ڈالر حاصل کرتی ہے۔

البتہ دولتِ اسلامیہ کے اخراجات بھی بہت ہیں۔ ہفتہ روزہ اکانومسٹ کے مطابق دولتِ اسلامیہ اپنے ہر جنگجو کو ماہانہ 400 ڈالر کی تنخواہ ادا کرتی ہے اور یہ تنخواہ شامی باغیوں کی تنخواہ سے زیادہ ہے۔

اس کے علاوہ وہ اپنے علاقے کے رہائشیوں کو خوش کرنے کے لیے علاقے میں سہولیات کی فراہمی کے لیے بھی ادائیگیاں کرتی ہے۔

عام طور پر خیال کیا جاتا ہے کہ دولتِ اسلامیہ کے پاس اتنی دولت ہے کہ وہ کم از کم ایک سال تک زندہ رہ سکتی ہے۔

اسی بارے میں