پولیس کو پیرس حملوں کے ’دو نئے مشتبہ افراد‘ کی تلاش

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption پیرس میں 13 نومبر کو ہونے والے حملوں میں 130 افراد ہلاک اور 350 سے زائد زخمی ہو گئے تھے

بیلجیئم کے پراسیکیوٹر آفس کا کہنا ہے کہ پولیس 13 نومبر کو پیرس میں ہونے والے حملوں کے مرکزی ملزم 26 سالہ فرانسیسی شہری صالح عبدالسلام کو مبینہ طور پر مدد کرنے والے دو نئے مشتبہ افراد کو تلاش کر رہی ہے۔

پراسیکیوٹر کے مطابق دو نامعلوم افراد ’مسلح اور خطرناک ہیں‘ اور اس بات کا امکان ہے کہ انھوں نے ستمبر میں صالح عبدالسلام کے ہنگری سفر کے دوران ان کی مدد کی تھی۔

واضح رہے کہ پیرس حملوں کی ذمہ داری اپنے آپ کو دولتِ اسلامیہ کہلانے والی شدت پسند تنظیم نے قبول کی تھی اور حملوں کے وقت صالح عبدالسلام پیرس ہی میں موجود تھے۔

پیرس میں 13 نومبر کو ہونے والے حملوں میں 130 افراد ہلاک اور 350 سے زائد زخمی ہو گئے تھے۔

صالح عبدالسلام کو ستمبر میں ہنگری اور آسٹریا کی سرحد کے قریب روکا گیا تھا اور اس وقت ان کے ہمراہ دو افراد جعلی شناختی دستاویزات کے ساتھ سفر کر رہے تھے۔

ان جعلی شناختی دستاویزات میں ان دو افراد کے نام صوفین کیال اور سامر بوزید تھے۔

بیلجیئم کے پراسیکیوٹر آفس کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان کے مطابق حکام اور تفتیشی جج عوام سے دوبارہ اپیل کرنا چاہتے ہیں کہ وہ ان دو نئے مشتبہ افراد کو تلاش کرنے میں مدد کریں۔

بیلجیئم کے پراسیکیوٹر کے مطابق پیرس حملوں میں صالح عبدالسلام کا کردار مختصر ہے تاہم تفتیش کاروں کا کہنا ہے کہ انھوں نے پیرس کے سٹیٹ ڈی فرانس سٹیڈیم میں خود کش بمباروں کو پہنچانے میں شاید کوئی کردار ادا کیا ہو۔

واضح رہے کہ اس سے پہلے 26 سالہ فرانسیسی شہری صالح عبدالسلام کو پیرس حملوں کا مرکزی ملزم سمجھا جا رہا تھا۔

صالح عبدالسلام کے بارے میں خیال ہے کہ انھوں نے بیلجیئم میں گاڑی کرائے پر حاصل کی تھی۔ یہ گاڑی بعد میں باتاکلان تھیئٹر کے قریب سے ملی تھی۔

فرانسیسی پولیس نے حملوں کے کچھ گھنٹوں بعد ہی بیلجیئم کی جانب سفر کرنے والی اس کار کو روکا تھا جس پر عبدالسلام بھی سوار تھے۔

پولیس افسران نے اس سے سوالات کیے اور شناختی دستاویزات دیکھ کر انھیں سفر جاری رکھنے کی اجازت دے دی تھی۔

اسی بارے میں