بچوں کے ہاتھوں شامی جنگی قیدیوں کے قتل کی ویڈیو

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

اپنے آپ کو دولتِ اسلامیہ کہلانے والی تنظیم دولت اسلامیہ نے ایک ویڈیو جاری کی ہے جس میں چھ بچوں کو شامی جنگی قیدیوں کو قتل کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔

اس ویڈیو کے آغاز میں بچے قلعے کے کھنڈرات میں شامی فوجیوں کی تلاش کر رہے ہیں اور ان فوجیوں کے ہاتھ بندھے ہوئے ہیں۔

ان قیدیوں کو تلاش کرنے کے بعد ہر ایک بچہ ایک ایک فوجی کو ہلاک کرتا ہے۔ پانچ فوجیوں کو گولیاں مار کر ہلاک کیا گیا جبکہ ایک کا گلا کاٹا گیا۔

’دولت اسلامیہ بچوں کو لبھا رہی ہے‘

اپنے دفاع میں طاقت کے استعمال کا لائسنس

کیا دولت اسلامیہ پسپا ہو رہی ہے؟

بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ اس ویڈیو سے دولت اسلامیہ یہ پیغام دینا چاہتی ہے کہ یہ تنظیم اپنے دشمنوں کے خلاف بے رحمانہ کارروائیاں جاری رکھنے کے لیے نئی نسل کو تیار کر رہی ہے۔

واضح رہے کہ یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ دولت اسلامیہ نے قیدیوں کو بچوں کے ہاتھوں قتل کروایا ہے۔

اس سے قبل جولائی میں دولت اسلامیہ نے ایک ویڈیو جاری کی تھی، جس میں پہلی بار جنگجو بچوں کو قیدیوں کے سر قلم کرتے ہوئے دکھایا گیا تھا۔

جولائی 2015 میں شام میں انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیم کا کہنا تھا کہ دولت اسلامیہ 19 بچوں کو خودکش بمباروں کے طور پر استعمال کیا۔

شام میں اطلاعات کے مطابق دولت اسلامیہ کے ٹھکانوں پر فرانس کے پہلے فضائی حملے میں تنظیم میں بھرتی کیے جانے والے 12 بچے ہلاک ہوئے تھے۔

رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ 2015 میں دولت اسلامیہ کے لیے لڑنے والے 16 سال سے کم عمر کے 52 بچے ہلاک ہوئے۔

مصنفہ جیسیکا سٹرن لکھتی ہیں کہ اِن اموات سے معلوم ہوتا ہے کہ عراق اور شام کی نوجوان آبادی کس طرح شدت پسندوں کی نئی نسل میں ڈھل رہی ہے۔

دولت اسلامیہ بچوں کو بھرتی کر کے اُنھیں انسانی ڈھال، جنگجوؤں، خودکش بمبار، نشانہ باز اور خون کے عطیات کے لیے استعمال کرتی ہے۔

اسی بارے میں