ڈونلڈ ٹرمپ کے مسلم مخالف بیان پر شدید ردِ عمل

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption وائٹ ہاؤس نے ڈونلڈ ٹرمپ کے اس بیان پر تنقید کرتے ہوئے اسے ‘غیر امریکی‘ قرار دیا ہے

امریکہ میں صدارتی الیکشن کے لیے رپبلکن پارٹی کی نامزدگی کے امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ کے اس بیان کو امریکہ کے مختلف حلقوں کی جانب سے شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے کہ امریکہ میں مسلمانوں کے داخلے پر پابندی لگا دینی چاہیے۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے پیر کے روز تقریر کرتے ہوئے مسلمانوں کے امریکہ میں داخلے پر ’مکمل‘ پابندی کا مطالبہ کیا تھا۔

ان کا یہ بیان گذشتہ ہفتے کیلیفورنیا میں ہونے والے حملے کے بعد سامنے آیا ہے جس میں ایک مسلمان جوڑے نے فائرنگ کر کے 14 افراد کو ہلاک کر دیا تھا۔

’کسی مسلمان کو امریکہ کا صدر نہیں بننا چاہیے‘

ڈونلڈ ٹرمپ کو مسلمان میرین کا جواب

’دہشت گردی کی جنگ اسلام اور امریکہ کی جنگ نہیں‘

ٹرمپ کے اس بیان پر شدید رد عمل سامنے آیا ہے اور امریکہ میں اس کی وسیع پیمانے پر مذمت کی جا رہی ہے۔

امریکی ایوان صدر وائٹ ہاؤس کی طرف سے کہا گیا ہے ڈونلڈ ٹرمپ کا بیان امریکی اقدار کے منافی ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ ماضی میں بھی متنازع بیانات دیتے رہے ہیں۔ ان کی مذمت کرنے والوں میں ان کی اپنی جماعت کے بھی افراد شامل ہیں جن میں سابق نائب صدر ڈک چینی بھی شامل ہیں۔

رپبلکن جماعت میں ڈونلڈ ٹرمپ کے مد مقابل جیب بش نے بھی اس بیان پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ ایک غیر محتاط بیان ہے۔

یہودیوں کی حمایتی تنظیم اینٹی ڈیفامیشن لیگ نے کہا ہے کہ لوگوں کو مذہب کی بنیاد پر امریکہ میں داخلے سے روکنا ناقابلِ قبول اور انتہائی توہین آمیز ہے۔ کونسل آن امیریکن اسلامک ریلشنز نے کہا کہ ڈونلڈ ٹرمپ بلوائیوں کے سربراہ کی طرح بات کر رہے ہیں۔

ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ سرحدوں کو اس وقت تک مکمل طور پر بند کر دینا چاہیے جب تک ’ہمارے ملک کے نمائندگان اس بات کا تعین نہیں کر لیتے کہ کیا ہو رہا ہے۔‘

وائٹ ہاؤس نے ڈونلڈ ٹرمپ کے اس بیان پر تنقید کرتے ہوئے اسے ’غیر امریکی‘ قرار دیا ہے۔ وائٹ ہاؤس سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ بیان امریکی اقدار اور قومی سلامتی کے خلاف ہے۔

خیال رہے کہ امریکی صدر براک اوباما نے پیر کی شب ہی قوم سے خطاب میں کہا تھا کہ اگر امریکہ دہشت گردی کو شکست دینا چاہتا ہے تو مسلم کمیونیٹیز کو اپنے مضبوط ترین اتحادیوں کے طور پر ساتھ رکھنا ہوگا نہ کہ انھیں شک اور نفرت کا شکار بنا کر دور دھکیل دینا چاہیے۔

امیگریشن کی مخالفت ڈونلڈ ٹرمپ کی انتخابی مہم کا اہم حصہ ہے۔ اس سے قبل وہ میکسیکو کے ساتھ سرحد پر دیوار بنانے کا مطالبہ بھی کر چکے ہیں تاکہ ’ریپ کرنے والوں‘ اور ’منشیات کے عادی افراد‘ کو ملک سے باہر رکھا جائے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption امیگریشن کی مخالفت ڈونلڈ ٹرمپ کی انتخابی مہم کا اہم حصہ ہے

پیرس میں ہونے والے حملوں کے بعد انھوں نے اپنی توجہ امریکہ میں مسلمان آبادی کی جانب مرکوز کر لی ہے، انھوں نے مساجد کی نگرانی اور مسلمانوں کے رجسٹریشن ڈیٹابیس کا بھی مطالبہ کیا ہے۔

پیر کو صحافیوں کو جاری کردہ بیان میں انھوں نے کہا کہ پیو ریسرچ کے ڈیٹا سے ظاہر ہوتا ہے کہ مسلمان امریکیوں کے خلاف ہیں۔

انھوں نے کہا: ’کسی دوسری رائے شماری کے ڈیٹا کو دیکھے بغیر یہ ہر کسی پر واضح ہے کہ اس نفرت کا احاطہ نہیں کیا جا سکتا۔‘

’یہ نفرت کہاں سے آتی ہے اور کیوں آتی ہے، ہمیں اس کا تعین کرنا ہے۔‘

ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا: ’جب تک ہم اس کا تعین نہیں کرتے اور یہ مسئلہ نہیں سمجھتے اور اس سے لاحق خطرہ نہیں سمجھتے، ہمارا ملک ان لوگوں کے ہولناک حملوں کا نشانہ نہیں بن سکتا جو صرف جہاد پر یقین رکھتے ہیں، اور انھیں سمجھ بوجھ یا انسانی جان کا کوئی احترام نہیں ہے۔‘

ڈونلڈ ٹرمپ کے اس بیان کے بعد صدارتی امیدوار کی دوڑ میں شامل ریبپلکن پارٹی کے بین کارسن نے امریکہ آنے والے تمام افراد کی ’رجسٹریشن اور نگرانی‘ کا مطالبہ کیا ہے۔

تاہم ان کے ترجمان کا کہنا تھا کہ ’ہم صرف ایک مذہب کے بارے میں وکالت نہیں کریں گے اور نہ ہی ایسا کر رہے ہیں۔‘

ایک اور رپبلکن امیدوار سینیٹر لنڈسے گراہم نے صدارتی امیدوار کی دوڑ میں شامل تمام اراکین سے مطالبہ کیا ہے وہ ڈونلڈ ٹرمپ کے بیان کی مذمت کریں۔ جس کے جواب میں فلوریڈا کے سابق گورنر جیب بش نے ڈونلڈ ٹرمپ کو ’بدحواس‘ قرار دیا۔

اسی بارے میں