مسلمانوں پر پابندی کے مطالبے سے ’امریکہ کی سلامتی کو خطرہ‘

تصویر کے کاپی رائٹ ap

امریکی محکمۂ دفاع پینٹاگون نے متنبہ کیا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کا مسلمان مخالف بیان امریکہ کی قومی سلامتی کو سبوتاژ کرنے کے مترادف ہے۔

ریپبلکن پارٹی کی صدارتی امیدوار کی دوڑ میں شامل ڈونلڈ ٹرمپ کا کیلی فورنیا میں ہونے والی حالیہ حملے کے تناظر میں کہنا تھا کہ مسلمانوں کے امریکہ داخلے پر پابندی عائد کرنی چاہیے۔

ڈونلڈ ٹرمپ کے مسلم مخالف بیان پر شدید ردِ عمل

’مجھے اپنے مسلح ہمسایے سے زیادہ ڈر ہو گا‘

’اگر میں جیتا تو پناہ گزینوں کو واپس جانا ہوگا‘

تاہم پینٹاگون کے پریس سیکریٹری پیٹر کک نے شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ کا حوالہ دیتے ہوئے کہ کہا ایسی باتیں ’داعش کے بیانیے کو بڑھاتی ہیں۔‘

ڈونلڈ ٹرمپ کے بیان پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے پینٹاگون نے کہا ہے مسلمانوں کے لیے سرحدیں بند کرنے سے انتہاپسندی کے نظریات کے خلاف امریکہ کی کوششوں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔

پیٹر کک نے ڈونلڈ ٹرمپ کا نام لیے بغیر کہا کہ ’جوکوئی بھی داعش کے بیانے کو بڑھاوا دے اور امریکہ کو مسلمان عقیدے کے خلاف کرے، وہ یقینی طور پر نا صرف ہماری اقدار بلکہ قومی سلامتی کے منافی ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AP

ریبپلکن پارٹی کی صدارتی امیدوار کی دوڑ میں شامل ہیلری کلنٹن نے بھی سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر اپنے ردعمل کا اظہار کیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے پیش کی جانے والی پابندی کی تجویز ’نا صرف ہماری اقدار کے مخالف ہے، بلکہ وہ دہشت گردوں کے ہاتھوں میں کھیل رہے ہیں۔‘

پیر کی شب ڈونلڈ ٹرمپ نے رائے شماری کا حوالہ دیتے ہوئے امریکہ کے لیے مسلمانوں کی ’نفرت‘ کا ذکر کیا تھا۔ ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ سرحدوں کو اس وقت تک مکمل طور پر بند کر دینا چاہیے جب تک ’ہمارے ملک کے نمائندگان اس بات کا تعین نہیں کر لیتے کہ کیا ہو رہا ہے۔‘

تاہم منگل کو انھوں نے اپنے بیان کا دفاع کرتے ہوئے سابق امریکی صدر فرینکلن روزویلٹ کی جنگ عظیم دوم میں امریکہ میں رہنے والے جاپانیوں، جرمنوں اور اطالوی باشندوں کے لیے نافذ کے گئی پالیسیوں کا حوالہ دیا۔

دوسری جانب مسلمان رہنماؤں، اقوام متحدہ اور غیرملکی رہنماؤں نے اس مطالبے کو خطرناک اور اختلاف رائے پر مشتمل قرار دیا جبکہ وائٹ ہاؤس کا کہنا تھا کہ ڈونلڈ ٹرمپ کو صدارتی امیدوار کی دوڑ کے لیے ناموزوں قرار دیا جانا چاہیے۔

اسی بارے میں