یورپی بارڈر کنٹرول یورو زون کے لیے خطرہ؟

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption آسٹریا اور جرمنی کی سرحد پر ٹرک اور گاڑیاں سرحد عبور کرنے کے لیے انتظار میں قطار بنائے کھڑے ہیں

شینگن گاؤں یورپی ملک لگسمبرگ میں دریائے موزیل کے کنارے واقع ہے اور اس کی سرحدیں جرمنی اور فرانس سے ملتی ہیں۔

یہ ایک عام سی جگہ ہے لیکن اس کا نام یورپی یونین کی تاریخ میں سب سے بنیادی معاہدے میں ہے۔

شینگن معاہدہ سنہ 1985 میں طے پایا تھا جس نے آہستہ آہستہ یورپی یونین کے درمیان اندرونی سرحدوں کو ختم کرنے کی راہ ہموار کی۔

آج شینگن علاقے میں 26 ممالک شامل ہیں بشمول ناروے اور سوئٹزرلینڈ، جو یورپی یونین میں نہیں ہیں۔ اگرچہ برطانیہ بھی اس کا حصہ نہیں لیکن حالیہ دنوں میں یورپی شہریوں کے لیے براعظم کی ایک جانب سے دوسری جانب کسی بھی سرحد پر روکے جانے کے بغیر آمد و رفت ممکن ہو سکی ہے۔

بہت سے یورپی رہنماؤں کے لیے شینگن یورپی یونین کے سب سے اہم قوانین میں سے ایک کا رکھتا ہے۔ لوگوں کی آزادانہ آمد و رفت اور یورپی یونین کی ایک ہی کرنسی یورو۔ یہ یورپی منصوبے کی سب سے مضبوط علامت ہے۔

بی بی سی کے نامہ نگار تھیو لیگیٹ کا کہنا ہے کہ جب وہ پیرس سے برسلز کے لیے تیز رفتار ٹرین پر سوار ہوئے یا پیرس سے کولون کے لیے روانہ ہوئے تو انھیں پتہ ہی چلا کہ کب انھوں نے سرحد عبور کر لی ہے۔

شینگن ویزا پر ایک طرف تو یہ تنقید کی جا رہی ہے کہ اس کی وجہ سے سمگلنگ میں آسانی اور غیر قانونی امیگریشن میں اضافہ ہوا ہے دوسری جانب اسی ویزا کی وجہ سے بین الاقوامی سفر میں بہت آسانیاں بھی پیدا ہوئی ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption ژان کلود ینکر کا کہنا ہے کہ شینگن کے بنا یورو کا کوئی مقصد سمجھ نہیں آتا

تاہم اس ویزا کی مدد سے ملنے والی آزادی کو اس وقت شدید خطرہ ہے۔

جرمنی، سویڈن، آسٹریا، ہنگری اور سلوواکیا نے تارکین وطن کے تنازعے کے بعد سے بعض سرحدی پابندیاں لاگو کر دی ہیں۔ دریں اثنا پیرس میں ہونے والے حملوں کےنتیجے میں سرحدوں پر چوکیاں بھی قائم کر دی ہیں۔

گذشتہ ہفتے وزرا نے ضرورت پڑنے پر بارڈر کنٹرول کو دو سال کے لیے قائم رکھنے کے منصوبے پر بات چیت کی ہے۔

اس وقت اس جیسے ہنگامی اقدامات کے بعد یہ خطرہ پیدا ہو گیا ہے کہ کہیں یہ تمام اقدامات مستقبل بنیادوں پر لاگو نہ کر دیے جائیں۔

یورپی کمیشن کے صدر ژان کلود یُنکر پہلے ہی تسلیم کر چکے ہیں کہ شینگن ویزہ ’ادھ موا‘ ہو چکا ہے۔ انھوں نے تنبیہ کی ہے کہ اگر شینگن ناکام ہو جاتا ہے تو یورو کے ساتھ بھی ایسا ہی ہوگا۔

اس سب کے یورپی معیشت پر سنگین اثرات مرتب ہوں گے۔

اگر سرحدیں دوبارہ سے قائم ہو جاتی ہیں تو یقینی طور پر اس کا بین الاقوامی تجارت پر اثر پڑے گا۔ سنہ 1990 کے وسط سے جب یورپی مارکیٹ قائم ہوئی ہے یورپی ممالک کے درمیان تجارت میں 800 ارب یوروز سے 28 کھرب یوروز کا اضافہ ہوا ہے۔

برسلز کی تحقیق کرنے والی تنظیم بروجیل کے ڈائریکٹر گنٹریم وولف کا کہنا ہے کہ ’ہماری کمپنیاں اس وقت بڑے پیمانے پر ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہیں اور اکثر پیداواری عمل ممالک کے درمیان تقسیم کر دیا جاتا ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption بڑی تعداد میں پناہ گزینوں اور تارکین وطن کے یورپ آنے کی وجہ سے بارڈر کنٹرول کا آغاز کیا گیا ہے

بارڈر کنٹرول کے نتیجے میں تاخیر کے مسائل پیدا ہوتے ہیں جو چند منٹوں سے لے کر کئی گھنٹوں تک محیط ہو سکتے ہیں۔اس تاخیر کی وجہ سے تجارتی نقل و حمل کے اداروں کو شدید مسائل کا سامنا ہو سکتا ہے۔

صنعتی ذرائع کے مطابق اس تاخیر کی وجہ سے فی ٹرک آنے والا خرچ فی گھنٹہ 55 یورو ہے۔ وہ مصنوعات جنھیں زیادہ دیر نہ رکھا جا سکتا ہو، وہ اس تاخیر کے نتیجے میں ضائع ہو جاتی ہیں۔

انٹرنیشنل روڈ ٹرانسپورٹ یونین ’آئی آر یو‘ کے مطابق صرف جرمنی اور آسٹریا کے درمیان دوبارہ سے بارڈر کنٹرول کی وجہ سے صنعت پر ایک سال میں دس کروڑ یوروز کا خرچ آئے گا۔

آئی آر یو کے برسلز میں نمائندے مائیکل نیلسن کا کہنا ہے کہ ’اندرونی سرحدوں پر انتظار کرنے کے وقت میں اضافے سے سفری اوقات اور کرائے میں اضافہ کی وجہ سے قیمتوں میں اضافہ لازمی ہو جائے گا۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ ’ایسی صنعت جس میں زیادہ تر کاروبار چھوٹے یا درمیانے ہیں اور بہت سے انتہائی کم منافع پر کام کر رہے ہیں۔ قیمتوں میں کسی بھی قسم کے اضافے کا مطلب ہے کہ صارفین میں کمی اور ٹرانسپورٹ کمپنیوں کو اپنی بقا کا چیلنج۔‘

مثال کے طور پر بڑے کاروباری مرکز لگسمبرگ میں کام کرنے والے بہت سے کارکن اصل میں فرانس، جرمنی اور بیلجیئم میں رہتے ہیں۔ ان کے لیے بارڈر کنٹرول روزانہ کی بنیادوں پر الجھن بن جائے گا۔

شینگن ویزا ختم کرنے سے بنیادی طور پر معاشی لاگت پر اثر پڑے گا۔ تاہم یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ 18.5 ٹریلین مشترکہ جی ڈی پی کے خطے کے لیے اس کو سنبھالنا مشکل ہو گا۔

لیکن اس سے خطے کی شہرت کو پہنچنے والا نقصان کہیں زیادہ اہم ہو گا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption یورپی ممالک میں کاروبار سرحدوں کی قید کے بنا کام کر رہے ہیں

گنٹریم وولف کاکہنا ہے کہ ’یورپی یونین شینگن سے قبل بھی موجود تھی اور اس کے بعد بھی رہ سکتی ہے۔ تاہم یہ انضمام کے عمل کے لیے ایک بڑا دھچکہ ہوگا۔ یورپی یونین ایک ایسی جگہ ہے جہاں ہمارے لیے بارڈر کنٹرول نہیں ہے اور ہم ایک مشترکہ کرنسی میں ادائیگی کرتے ہیں۔‘

یہی وجہ ہے کہ ژان کلود ینکر شینگن کے مستقبل کو یورو کے مستبقل کے ساتھ جوڑ رہے ہیں۔ ان کے مطابق ایک کے بغیر دوسرے کی کوئی وجہ سمجھ نہیں آتی۔

اگر یورو غائب ہو جاتا ہے تو کیا یورپی یونین کے ہونے کی کوئی وجہ سمجھ میں آئے گی؟

واحد کرنسی بہرحال معاشی اور سیاسی اتحاد کو ظاہر کرنے والا واحد مادی ذریعہ ہے۔

یورپی ممالک کے حکومتیں پہلے ہی شینگن میں شامل بیرونی سرحدوں کی سکیورٹی سخت کرنے کا فیصلہ کر چکی ہیں۔ اس اقدام کو بہت سے یورپ میں نقل و حرکت کی آزادی کو برقرار رکھنے کی قیمت کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔

لیکن اگر یہ کوششیں ناکام ہو جاتی ہیں اور اندورنی سرحدیں قائم ہو جاتی ہیں تو یورپی یونین کو خود بھی موجودہ تنازعے کا سامنا ہو گا۔

اسی بارے میں