ملائشیا کے ہوائی اّڈے پر کھڑے جہازوں کے مالکان کی تلاش

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption تین بوئنگ جہازوں سیون فور سیون کے مالکان کے بارے میں تا حال کچھ پتہ نہیں ہے

ملائشیا کے دارالحکومت کوالالمپور کے ہوائی اڈے کے حکام کی جانب سے ہوائی اڈے پر کھڑے تین بوئنگ جہازوں کے مالکان کی تلاش کے لیے اخبارات میں اشتہار شائع کیا گیا ہے۔

ان تینوں بوئنگ جہازوں سیون فور سیون کے مالکان کے بارے میں تا حال کچھ پتہ نہیں اور ہوائی اڈے کے حکام اب اشتہار کے ذریعے ان کی تلاش کر رہے ہیں۔

اشہار میں کہا گیا ہے کہ اگر جہازوں کے مالکان آئندہ 14 دن کے اندر جہازوں کی ملکیت ظاہر کرنے اور ان کا انتظام کرنے میں ناکام رہے تو ’ہمیں اختیار ہوگا کہ ان جہازوں کو فروخت کر دیں یا ان کو ٹھکانے لگادیں۔‘

اشہتار کے مطابق جہاز کے مالکان کے ذمے نہ صرف جہازوں کے اس ہوائی اڈے پر اترنے بلکہ پارکنگ کی فیس بھی واجب الادا ہے۔

ہوائی اڈے کے ایک اہلکار کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ ان جہازوں کے مالکان کی تلاش کے سلسلے میں ان افراد سے رابطہ کرنے کی کوشش کی گئی تھی جن کے بارے میں آخری اطلاعات یہ تھیں کہ وہ ان جہازوں کے مالکان ہیں۔

ملائشیا ائیرپورٹس کے جنرل مینیجر زین المحد عیسیٰ نے خبر رساں ادارے اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’مجھے سمجھ نہیں آ رہی کہ وہ (مالکان) آخر رابطہ کیوں نہیں کر رہے۔ اس کی کئی وجوہات ہو سکتی ہیں۔ ہو سکتا کہ ان کے پاس آپریشنز جاری رکھنے کے لیے پیسے ہی نہ باقی رہے ہوں۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ گذشتہ دہائی میں کچھ طیارے جو زیادہ تر چھوٹے سائز کے تھے، انھیں بھی مالکان نے یونہی چھوڑ دیا تھا۔ ان میں سے ایک کوسنہ 1990 میں ہوائی اڈے پر چھوڑ دیا گیا تھا۔ اس جہاز کو بعد میں خریدنے والے نے کوالالمپور کے نواح میں ایک ریستوران میں تبدیل کر دیا تھا۔

حکام کہتے ہیں کہ اگر ہوائی اڈے پر کھڑے تین جہازوں کی طرف واجب الادا رقم 21 دسمبر تک نہ ملی تو جہازوں کو نیلام کر دیا جائے گا یا پھر انھیں سکریپ میں بیچ کر کچھ رقم حاصل کی جائے گی۔