سعودی عرب کےاجلاس میں کون شریک ہوگا؟

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption یہ سلفی عقیدہ رکھنے والے جنگجوؤں پر مشتمل تیسرا بڑا گروہ جیش السلام اس کانفرنس میں شرکت کر رہا ہے

سعودی عرب میں شام کی حزب اختلاف کے اجلاس میں کون شریک ہو گا؟

شام کی حزب اختلاف کے نمائندے سعودی عرب میں جمع ہوئے ہیں تاکہ اگلے سال شام میں امن بحال کرنے کے لیے ہونے والی کانفرنس میں ایک متفقہ لائحہ عمل تیار کیا جا سکے۔

یہ اس اعتبار سے غیر معمولی اجلاس ہے کیوں کہ اس میں تمام سیاسی نظریات کے حامل نمائندے جن میں سخت گیر مسلمان بھی شامل ہیں شرکت کر رہے ہیں۔

سعودی عرب میں شامی حزبِ اختلاف کا اجلاس

شام میں اعتدال پسند جنگجوؤں کی تعداد کتنی؟

سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں ہونے والے اس اجلاس میں آزاد ارکان اور سیاسی تنظیموں کے سو سے زیادہ نمائندہ شرکت کر رہے ہیں جن میں 16 مسلح گروہوں کے نمائندے بھی ہیں۔

شام کی نیشنل کولیشن کی نمائندگی اس کے 38 اراکین کریں گے۔ اس سیاسی گروہ کو 120 سے زیادہ ملک شام کے عوام کی نمائندہ تسلیم کرتے ہیں اور یہ صدر بشار الاسد کی اقتدار سے علیحدگی کا مطالبہ کرتی ہے۔ اس کا موقف سعودی حکومت کے موقف سے قریب تر ہے۔

حزب اختلاف کے ایک اور گروپ نیشنل کوارڈینیشن کمیٹی (این سی سی) کی طرف سے اس اجلاس میں 13 نمائندے شرکت کر رہے ہیں۔

این سی سی کو شام کی حکومت ایک محب وطن حزب اختلاف کے طور پر دیکھتی ہے کیونکہ یہ ملک میں بیرونی مداخلت اور صدر حکومت کے خلاف مسلح تحریک کی بھی سب سے بڑی مخالف ہے۔

اس اجلاس کےشرکا میں بلڈنگ سیرین سٹیٹ کرنٹ نامی گروہ بھی شامل ہے جو بیرونی مداخلت کے مخالف ہیں اور ان کی قیادت حزب اختلاف کی بڑی شخصیت حاتم مننا کر رہے ہیں۔

Image caption شام میں اس وقت کس کے پاس کون سا علاقہ ہے

اس اجلاس میں دولت اسلامیہ اور القاعدہ سے تعلق رکھنے والے النصرہ کو مدعو نہیں کیا گیا لیکن دوسرے اسلامی گروپ شرکا میں شامل ہیں۔

اس میں سرفہرست احرار الشام نامی گروہ ہے۔ یہ گروہ جیش الفتح اتحاد کے جھنڈے تلے النصرہ کے شانہ بشانہ لڑتا رہا ہے۔ یہ گروہ شرعی قوانین کے نفاذ کی کوشش میں ہے۔ یہ گروہ اپنے آپ کو شدت پسندوں سے دور کرنے کی کوشش اور ایک وسیع تر معاہدے کے حق میں ہے۔ اس گروہ کی نمائندگی لبیب النہاس کر رہے ہیں۔

شام کے شمالی علاقوں میں النصرہ کے ہمراہ لڑنے والا ایک اور گروہ الجبا الشامیہ اتحاد کا نام بھی شرکا کی فہرست میں موجود ہے۔

تیسرہ بڑا گروہ جو اس کانفرنس میں شرکت کرے گا اس کا نام جیش السلام ہے۔ یہ سلفی عقیدہ رکھنے والے لوگوں کا گروہ ہے جو دمشق کے قریب ایک وسیع علاقے پر قابض ہے۔ یہ گروہ ڈومہ شہر میں قائم ہے اور اس کی قیادت زران الوش کر رہے ہیں۔

شام کے مستقبل کے بارے میں میں اس گروپ کے خیالات میں تبدیلی آئی ہے۔2013 میں اس کا موقف تھا کہ اسلام کے علاوہ شام کے لیے کچھ نہیں ہونا چاہیے اب اس کا کہنا ہے کہ شام کے لوگ جو چاہیں گے ویسا ہی نظام قائم کیا جانا چاہیے۔

ریاض میں مغرب کی حمایت یافتہ فری سیرین آرمی کی نمائندگی ہو گی۔ فری سیرین آرمی جنوبی، مرکزی اور شمالی محاذوں پر سرگرم ہے۔

ابتدائی طور پر یہ شام کی فوج سے باغی ہونے والے افراد پر مشتمل تھی لیکن گذشتہ دو برس کے دوران اس کو بڑے پیمانے پر پسپائی کا سامنا رہا ہے اور یہ کئی گروہوں میں بٹ گئی ہے لیکن درا میں اس کے جنگجو بڑی تعداد میں موجود ہیں۔

جو اس کانفرنس میں شرکت نہیں ہو رہے

تصویر کے کاپی رائٹ afp getty
Image caption وائے پی ڈی ترکی کی سرحد سے متصل جنوبی علاقوں پر کنٹرول ہے

اگرچہ ریاض میں بلائی گئی اس کانفرنس میں گو کردوں کی نمائندگی ہو گی لیکن کردوں کا مضبوط گروہ ڈیموکریٹک یونین پارٹی اور اس کے ساتھ قریبی روابط رکھنے والی پیپلز پروٹیکش یونٹس ملیشیا کو مدعو نہیں کیا گیا۔

اس گروہ پر اکثر شام کی حکومت سے ساز باز کے الزامات لگائے جاتے ہیں لیکن ڈیموکریٹک یونین پارٹی الجزیرہ، کوبانی اور آفرین کے شمالی علاقوں پر مشتمل خود ساختہ خود مختار حصے کی ایک بڑی سیاسی جماعت ہے۔

یہ جماعت شمالی شام میں دولتِ اسلامیہ کے خلاف لڑائی میں مرکزی ملیشیا فورس ہے جبکہ یہ شامی حکومت کی فورسز اور دیگر شدت پسند تنظیموں سےبھی لڑ رہی ہے لیکن اس نے فری سیرین آرمی سے منسلک غیر اسلامی شدت پسند گروپوں کے ساتھ کامیابی سے کام کیا ہے۔

اس گروپ نے ابھی جنوبی الحسکہ میں حکومتی فورسز سے زبانی معاہدہ کر رکھا ہے۔

اس گروپ نے صوبہ الحسکہ میں اپنے طور پر اجلاس منعقد کرنے کا اہتمام کیا جا رہا ہے اور اگر ایسا ہوتا ہے کہ تو یہ حزب اختلاف کی جانب سے شام میں تنازع کے شروع ہونے کے بعد شامی سرزمین پر پہلی کانفرنس ہو گی۔

شام میں حزّب اختلاف کی نامور شخصیت ہیثم منا بھی ریاض میں ہونے ہوالے مذاکرات میں شرکت نہیں کر رہے جس کی وجہ انھوں نے ان مذاکرات میں ’دہشت گرد گروہوں‘ کی شمولیت کو قرار دیا ہے۔

اسی بارے میں