’پولیس غیرت کے نام پر جرائم کے مقابلے کے لیے تیار نہیں‘

Image caption شفلیہ احمد کے والدین نے اپنی بیٹی کا قتل مبینہ طور پر غیرت کے نام پر سنہ 2003 میں کیا تھا

برطانوی حکام کے مطابق انگلینڈ اور ویلز کی پولیس غیرت کے نام پر ہونے والے جرائم سے مقابلہ کرنے کے لیے مکمل طور پر تیار نہیں ہے۔

پولیس کے ردِعمل کے پہلے جائزے میں برٹش کانسٹیبلری کے انسپکٹریٹ کا کہنا تھا کہ 43 میں سے تین پولیس فورسز اس سلسلے میں مکمل طور پر تیار نہیں تھیں اور صرف تین ایسی تھیں جو مکمل تیار تھیں۔

ایچ ایم آئی سی کا کہنا ہے کہ مجرموں کی نشاندہی کے لیے مکمل تربیت یافتہ افسران ویلز اور انگلینڈ بھر میں بہت کم جگہوں پر موجود تھے۔

پولیس سربراہان کا کہنا ہے کہ انھوں نے وہ سب کچھ کیا ہے جو وہ غیرت کے نام پر استحصال ختم کرنے کے لیے کر سکتے تھے۔

غیرت کی بنیاد پر جُرم کو یہ نام اُن مجرموں کی جانب سے دیا گیا ہے جن کا دعویٰ ہے کہ وہ اپنی اقدار اور مذہبی عقائد کی حفاظت کر رہے ہیں۔

ایچ ایم آئی سی نے پولیس کی تیاری کا جائزہ لیا کہ وہ جبری شادیوں، نسوانی ختنے (ایف جی ایم) کی شناخت اور اُنھیں روکنے کے حوالے سے کیا حکمتِ عملی اختیار کرتے ہیں۔

ایچ ایم آئی سی کے مطابق اگرچہ ’کچھ جگہوں پر اچھا کام ہو رہا ہے‘ لیکن زیادہ تر فورسز کو بہتری کے لیے بہت زیادہ اقدامات کی ضرورت ہے۔

تین جگہوں سٹیفورڈ شائر، ٹیمز ویلی اور ڈائیفڈ پوس تیاری کا کوئی بھی اہم امتحان پاس نہیں کر پائے۔

میٹروپولیٹن پولیس اور مانچسٹر کی پولیس کا شمار بھی اُن فورسز میں ہوتا ہے جو قانون نافذ کرانے کی صلاحیت کے امتحانوں میں ناکام ہو گئی تھیں۔

صرف تین فورسز ہی جائزے کے تمام مراحل میں کامیاب ہو پائیں۔ ان میں ویسٹ مڈلینڈ کی پولیس، ڈربی شائر اور نارتھمبریا کی پولیس شامل ہے۔

ایچ ایم آئی سی کا کہنا ہے کہ ہیتھرو ہوائی اڈے پر سرحدی اور میٹ حکام کے درمیان ایک مشترکہ آپریشن کا نمونہ تیار کیا گیا جو نسوانی ختنے یا جبری شادیوں کے سلسلے میں برطانیہ کے اندر یا وہاں سے باہر لے جائے جانے والے افراد کی شناخت کے لیے بنایا گیا تھا، لیکن وہ کسی بھی قسم کے جرائم یا اُن کا ارتکاب کرنے والوں کو بے نقاب کرنے میں مددگار ثابت نہیں ہو سکا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption برٹش کانسٹیبلری کے انسپکٹریٹ کے مطابق انگلینڈ اور ویلز کی پولیس غیرت کے نام پر ہونے والے جرائم سے مقابلہ کرنے کے لیے مکمل طور پر تیار نہیں ہے

کچھ پولیس فورسز نے گھریلو تشدد اور بچوں پر تشدد کے انسداد کے لیے پہلے سے نافذ حکمتِ عملی ہی سے غیرت کے نام پر ہونے والے جرائم سے نمٹنے کے لیے حکمتِ عملی ترتیب دی تھی لیکن ایچ ایم آئی سی کا کہنا ہے کہ فورسز کے پاس ’اِن جرائم کی نوعیت یا اُن کا دائرہ کار جاننے کے لیے کوئی اچھی اور مکمل حکمتِ عملی موجود نہیں تھی نہ ہی وہ یہ جانتے تھے کہ ایسے جرائم کی صورت میں کیا کرنا چاہیے۔‘

اس مسئلے کے بارے میں نیشنل پولیس چیف کونسل کمانڈر میک چشتی کا کہنا ہے کہ ’اس سلسلے میں پولیس واضح حکمتِ عملی بنانے کے سلسلے میں کام کر رہی ہے۔ بالخصوص مجرموں، ممکنہ مجرموں اور اس طرح کے خطرات سے دوچار لوگوں کی حفاظت کے سلسلے میں کام کیا جا رہا ہے۔‘

انھوں نے مزید کہا: ’ہم ایچ ایم آئی سی سے متفق ہیں کہ غیرت کے نام پر ہونے والے تشدد کا شکار افراد کو اکثر اُن افراد سے زیادہ خطرہ لاحق ہوتا ہے جو اُن کے قریب ہوتے ہیں جیسے کہ اُن کا خاندان یا رشتہ دار۔اُن کا حق ہے کہ اُن کی بات سُنی جائے، اُن پر یقین کیا جائے، اُنھیں سنجیدہ لیا جائے اور اُن کی حفاظت کی جائے۔ ہم اُن کی مدد کی درخواست پر فوری جواب دینے کے عمل کو بہتر بنانے کے سلسلے میں کام کر رہے ہیں تاکہ ہم ہمیشہ انھیں جواب دے سکیں۔‘

برطانوی کانسٹیبلری کے ایچ ایم انسپکٹر وینڈی ولیمز کا کہنا ہے کہ ’تمام علاقوں اور آبادیوں میں ’روزانہ کی بنیاد‘ پر معصوم لوگوں کے ساتھ غیرت کے نام پر تشدد کیا جا رہا ہے۔

انھوں نے مزید کہا: ’ان جرائم کا شکار افراد اس بارے میں رپورٹ درج کرانے کے سلسلے میں جذباتی طور پر بہت زیادہ مسائل کا شکار ہیں جس سے یہ بات ظاہر ہوتی ہے کہ وہ بہت زیادہ اور مسلسل خطرے سے دوچار ہیں۔‘

ایچ ایم چیف انسپکٹر آف کانسٹیبلری سر ٹامس ونسر نے کہا کہ ’ثقافتی روایات حساسیت کی مستحق ہیں اور انھیں ہمیشہ احترام دیا جانا چاہیے۔ لیکن جہاں یہ کمزور لوگوں کو خوف کے سایوں میں مقید کرنے اور تشدد یا پھر ڈرانے کا کام کریں اور اس قسم کے جرائم کے خلاف سہولت دیں یا انھیں تیز کرنے میں مدد دینے لگیں تو اس طرح کی رکاوٹوں کو توڑنا بہت ضروری ہے۔‘

ہوم افیئرز سیلیکٹ کمیٹی کے چیئرمین کیتھ ویز کا کہنا ہے کہ رپورٹ سے یہ بات ظاہر ہوتی ہے کہ غیرت کے نام پر ہونے والے جرائم ’کا خطرہ اب بھی منڈلا رہا ہے۔‘

انھوں نے رپورٹ میں بہتر تربیت، مختلف برادریوں کے ساتھ کام کرنے اور اِن جرائم کا شکار افراد کے لیے بہتر خدمات کی تجاویز کا خیر مقدم کیا ہے۔

اسی بارے میں