’اسلام کو اصلاح کی ضروت ہے: ٹونی ایبٹ

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption ٹونی ایبٹ کا موقف ہے کہ یہ بد تہذیبی نہیں ہے کہ ہم آسٹریلیا کے لیے وفاداری اور مغربی شہریت کے لیے احترام طلب کریں

آسٹریلیا کے سابق وزیرِ اعظم ٹونی ایبٹ کے اس بیان نے تنقید کا طوفان چھیڑ دیا ہے جس میں انھوں نے کہا کہ اسلام میں بڑے پیمانے پر مسائل ہیں اور اس میں اصلاحات کی ضرورت ہے۔

ٹونی ایبٹ کا کہنا تھا کہ ’تمام تہذیبیں ایک سی نہیں ہیں‘ اور مغرب کو اپنے اقدار کے تحفظ پر معذرت کرنا بند کر دینی چاہیے۔

آسٹریلین جہادیوں کی شہریت ختم ہو سکتی ہے

آسٹریلیا کے حزبِ اختلاف کے رہنما بل شارٹن کا کہنا تھا کہ یہ بیان بے سود ہے۔

ملک کے موجودہ وزیرِ اعظم میکلم ٹرن بل کا کہنا ہے کہ خود مسلمانوں کی اکثریت شدت پسندی سے باعث خوفزدہ ہے۔

پرتھ میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے ٹرن بل کا کہنا تھا کہ ’یہ یقین دہانی کروانا ضروری ہے کہ ہم وہ غلطی نہیں کریں گے جو یہ دہشت گرد ہم سے کروانا چاہتے ہیں۔ چند لوگوں کے کیے کی سزا ہم ہر مسلمان کو نہیں دے سکتے۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’یہ کوئی نیا انکشاف نہیں ہے کہ عالم اسلام میں شدت پسند عناصر موجود ہیں اس کے باوجود اس مذہب میں جمہوریت اور آزاد معاشرے کے ساتھ ہم آہنگ ہونے کی گنجائش موجود ہے۔‘

ان کے بقول ان شدت پسند تنظیموں کے زیادہ تر متاثرین خود مسلمان ہی ہیں۔

آسٹریلوی وزیرِ اعظم نے اپنے پیش رو کے بیان پر کوئی رائے نہیں دی۔ تاہم انھوں نے کہا کہ شدت پسندی پر ان کے بیانات ہمیشہ محتاط ہوتے ہیں جن سے آسٹریلیا محفوظ رہے۔

ٹونی ایبٹ اور ان کی پارٹی کو غیر مقبول ہونے پر ستمبر میں عہدے سے ہٹا دیا تھا اور اب وہ محض ایک رکن پارلیمان ہیں۔ سیاست میں آنے سے قبل انھوں نے کیتھولک پادری کی تربیت لی تھی۔

ایک آسٹریلوی جریدے میں شائع ہونے والے ان کے ایک خط میں مسلمانوں کو بُرا بنا کر پیش کیا گیا ہے لیکن یہ بھی کہا گیا کہ مغرب کو اسلام کے ساتھ بڑے پیمانے پر موجود مسائل سے انکار نہیں کرنا چاہیے۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption آسٹریلیا کے موجودہ وزیراعظم میکلم ٹرن بل کا کہنا تھا نے کہا کہ شدت پسندی پر ان کے بیانات ہمیشہ محتاط ہوتے ہیں جن سے آسٹریلیا محفوظ رہے

انھوں نے کہا ’گو کہ مسلمانوں نے دہشت گردی کو مسترد کیا ہے لیکن ان میں بعض ایسے ہیں جو کافروں کے لیے موت کی سزا کی توجیہ پیش کرتے ہیں۔

’اسلام کے پاس کبھی بھی اصلاحات کا طریقۂ کار نہیں تھا اور اس کی ترویج اور تمام نظریات کو سمجھنے کی صلاحیت نہیں تھی کہ مسجد کو ریاست یعنی مذہب کو ریاست کے معاملات سے علیحدہ کیسے کیا جائے۔

’یہ بد تہذیبی نہیں ہے کہ ہم آسٹریلیا کے لیے وفاداری اور مغربی شہریت کے لیے احترام طلب کریں۔ تمام تہذیبیں برابر نہیں ہوتیں۔

’ اگر کوئی خدا کا نام لے کر لوگوں قتل کرنے کا جواز پیش کرتا ہے تو ہمیں بھی اپنی تہذیب کی برتری جتانے کے لیے تیار رہنا چاہیے۔‘

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ پرتشدد شدت پسندی کو صرف مسلمان ہی روک سکتےہیں۔

اسلامی کونسل وکٹوریا کے ایگزیکٹیو ڈائریکٹر نائل ایکان کا کہنا ہے کہ ’ایسے میں جب ہم آسٹریلیا میں اتحاد اور سماجی تنظیم کو بڑھانے کی کوشش کر رہے ہیں ٹونی ایبٹ کا بیان بالکل مددگار نہیں ہے۔‘

انھوں نے ٹونی ایبٹ کو مشورہ دیا کہ ’پوری قوم کو محب الوطن بنانے سے پہلے وہ باہر نکلیں اور چند مقامی اصل مسلمانوں سے ملیں اور ان کی رائے لیں۔‘

حزبِ مخالف کے رہنما مسٹر شارٹن کا کہنا تھا: ’تہذیب اور مذہب کے بارے میں بیان کسی بھی طرح فائدہ مند نہیں ہے۔

’اشتعال انگیز زبان سماجی اتحاد اور باہمی احترام کے قیام کی کوششوں کو بے اثر کرتی ہے۔ اور سلامتی کے اداروں کی جانب سے آسٹریلیا اور محفوظ رکھنے کی کوششوں کو بھی نقصان پہنچا سکتی ہے۔‘

آسٹریلیا دولتِ اسلامیہ کے خلاف امریکی قیادت میں جاری بین الاقوامی آپریشن میں شامل ہے۔

اسی بارے میں