ایک سابق فوجی کا اسلام مخالفین کو جواب

تصویر کے کاپی رائٹ Chris Herbert Facebook
Image caption کرس ہیربرسٹ یورکشائر رجمنٹ سے تعلق رکھنے والے ایک سابق برطانوی فوجی ہیں جو عراق میں تعینات رہ چکے ہیں

’ہاں۔ ایک مسلمان شخص نے مجھے اڑایا تھا، اور میں نے اپنی ٹانگ کھو دی۔‘ کرس ہربرٹ نے فیس بک پر اپنے غصے کا اظہار ان الفاظ سے آغاز کرتے ہوئے کیا تھا۔

کرس ہربرٹ یورکشائر رجمنٹ سے تعلق رکھنے والے ایک سابق برطانوی فوجی ہیں جو عراق میں تعینات رہ چکے ہیں، ان کی ایک ٹانگ بصرہ میں ایک بم دھماکے میں ضائع ہوگئی تھی۔

اسلام کے خلاف نفرت کے اظہار کے بجائے ہربرٹ کی جانب سے فیس بک پر کی گئی ایک پوسٹ میں انھوں نے ان مسلمانوں کی تعریفیں کی جنھوں نے عراق میں ان کی خدمت کی اور صحت یاب ہونے میں ان کی مدد کی۔

انھوں نے لکھا: ’ایک مسلمان شخص نے بھی اسی دن اپنا بازو کھو دیا جو برطانوی یونیفارم میں تھا۔ ایک مسلمان ڈاکٹر اس ہیلی کاپٹر میں تھا جو مجھے جائے وقوعہ سے لے کر گیا۔ ایک مسلمان سرجن نے میری سرجری کی اور میری جان بچائی۔ ایک مسلمان نرس بھی اس ٹیم کا حصہ تھی جس نے میری مدد کی جب میں برطانیہ لوٹ کر آیا۔‘

ہربرٹ کا کہنا ہے کہ انھوں نے یہ پوسٹ ایک ’اسلاموفوبیا گروہ کی جانب سے مجھے بطور نمائندہ اپنے ساتھ شامل کرنے کی کوشش‘ کے بعد کی۔

وہ ان واقعات کا بھی ذکر کرتے ہیں جب ’سفید فام برطانویوں‘ نے ان کے ساتھ غیراخلاقی رویہ اپنایا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Chris Herbert Facebook
Image caption ہربرٹ کی اس پوسٹ کی بہت زیادہ تعریف کی گئی ہے

وہ لکھتے ہیں کہ ’اگرچہ بہت سارے لوگوں نے مجھے صحت یاب ہونے میں میری مدد کی۔ میں سفید فام برطانویوں سے نفرت نہیں کرتا۔‘

وہ لکھتے ہیں ’میں جانتا ہوں مجھے کون ناپسند ہے، اور کسے میں ناپسند نہیں کرتا۔‘

’میں جانتا ہوں میں کس کی حوصلہ افزائی کرتا ہوں اور میں جانتا ہوں کس کی نہیں۔ اگر آپ چند افراد کی وجہ سے مرد اور خواتین کی تمام نسل سے نفرت کرنا چاہتے ہیں۔۔ تو ایسا کریں، لیکن مجھ پر اپنا نکتہ نظر نہ دھونسیں، یہ سوچتے ہوئے کہ میں ایک آسان ہدف ہوں۔‘

وہ مزید لکھتے ہیں کہ ’داعش (خود کو دولت اسلامیہ کہنے والی تنظیم) اور طالبان جیسے گروہوں کے عمل کا الزام تمام مسلمانوں کو ٹھہرانا ایسا ہی ہے جیسے کے کے کے یا ویسٹبورو بیپسٹ چرچ کے عمل کے لیے تمام عیسائیوں پر الزام عائد کرنا۔‘

وہ آخر میں لکھتے ہیں: ’اپنی زندگیوں پر قابو پائیں، اپنے خاندان کو گلے لگائیں اور اپنے کام پر واپس جائیں۔‘

ہربرٹ کی اس پوسٹ کی بہت زیادہ تعریف کی گئی ہے۔ ایک تبصرے میں کسی نے کہا ’میں نے آج تک فیس بک پر یہ سب سے بہترین چیز پڑھی ہے۔‘

ایک اور تبصرے میں کسی نے لکھا: ’شرم کی بات ہے کہ جس طرح آپ چیزوں کو دیکھتے ہیں دوسرے نہیں دیکھ سکتے۔‘

اس پوسٹ کو تقریباً 80 ہزار مرتبہ شیئر کیا جا چکا ہے۔ اسے خاص طور پرٹویٹر پر بھی شیئر کیا گیا، جن میں پلائی ماؤتھ سے رکن پارلیمان اور سابق فوجی جانی مرسر بھی شامل ہیں۔

جانی مرسر سے بی بی سی ٹرینڈنگ کو بتایا کہ کرس ہربرٹ کے خیالات بہت سارے فوجیوں کی عکاسی کرتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Chris Herbert

اسی بارے میں