دولتِ اسلامیہ کے جنگجوؤں کی’تنخواہوں میں کمی‘

تصویر کے کاپی رائٹ IS propaganda
Image caption دولت اسلامیہ زیادہ تر شمالی اور وسطی عراق اور شمالی شام میں موجود ہے

خود کو دولت اسلامیہ کہنے والی شدت پسند تنظیم ٹیکس سے ہر ماہ آٹھ کروڑ ڈالر اور سالانہ تقریباً 96 کروڑ امریکی ڈالر کما رہی ہے۔

دولتِ اسلامیہ کی آمدن میں زیادہ حصہ زیر قبضہ علاقے میں لگائے گئے ٹیکسوں سے حاصل ہوتا ہے تاہم اب اس نے آمدن میں اضافے کے لیے حال ہی میں اپنے جنگجوؤں کی تنخواہوں میں کمی کر دی ہے۔

دولت اسلامیہ کی آمدن اور اخراجات کیا ہیں؟

دولتِ اسلامیہ 2014 میں اُس وقت عالمی منظرنامے پر سامنے آئی تھی جب اِس کے جنگجوؤں نے شام اور عراق کے بڑے علاقے پر قبضہ کر لیا تھا۔ یہ تنظیم ظلم، اغوا، بڑے پیمانے پر قتل عام اور سرقلم کرنے کے واقعات کے باعث مشہور ہے۔

دولتِ اسلامیہ کی آمدن کے بارے میں تحقیق کرنے والے کولمب سٹارک نے بی بی سی کے پروگرام نیوز روم کو تفصیلات بتائی ہیں۔

’اعداد وشمار کے حساب سے 50 فیصد آمدنی ٹیکس اور جائیداد ضبط کرنے سے جبکہ 43 فیصد آمدنی تیل سے اور باقی منشیات کی سمگلنگ، بجلی کی فروخت اور نجی عطیات سے حاصل ہوتی ہے۔‘

لیکن دولت اسلامیہ صرف دہشت گرد تنظیم ہی نہیں ہے۔ سٹارک کا کہنا ہے کہ ’وہ ایک ریاست چلا رہے ہیں اور اُنھوں نے مقامی دکانداروں سے لے کر انٹرنیٹ فراہم کرنے والے تک تمام تجارتی طبقے پر 20 فیصد کے حساب سے ٹیکس لگا دیا ہے۔‘

دولت اسلامیہ: اربوں ڈالر کی معیشت

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption ’دولت اسلامیہ اب عراق اور شام کے تقریباً 20 سے 25 فیصد آبادی والے علاقوں میں آزادانہ طور پر کام نہیں کر سکتی‘

قطر میں رائل یونائٹڈ سروسز انسٹیٹیوٹ کے ڈائریکٹر مائیکل سٹیون نے اِس نقطہ نظر کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ دولت اسلامیہ جو کام کر رہی ہے وہ نیم ریاستی ڈھانچے کا آغاز ہے، جہاں وزارتیں، قانونی عدالتیں اور یہاں تک کہ بنیادی ٹیکس کا نظام بھی ہے۔

’شہر پر قبضہ کرنے کے بعد وہ فوری طور پر پانی، آٹا اور علاقے کے وسائل کو محفوظ بناتے ہیں، اِن سب کی تقسیم کا مرکزی نظام بننے کے بعد مقامی آبادی اپنی بقا کے لیے اُن پر انحصار کرتی ہے۔‘

ستمبر 2014 میں امریکہ کے قومی انسداد دہشت گردی مرکز (این سی ٹی سی) کے ڈائریکٹر میتھیو اولسن کا کہنا تھا کہ دولت اسلامیہ دجلہ اور فرات کے دریائی نظام کے زیادہ تر علاقے پر کنٹرول کرتی ہے۔ یہ علاقہ برطانیہ کے رقبے یا تقریباً 210,000 مربع کلومیٹر کے برابر ہے۔

ایک سال بعد امریکی وزارت دفاع نے یہ بات واضح کر دی ہے کہ دولت اسلامیہ زیادہ تر شمالی اور وسطی عراق اور شمالی شام میں موجود ہے اور امریکی قیادت میں کیے جانے والے فضائی اور زمینی حملوں میں اِس کو واپس دھکیل دیا گیا ہے۔

اُنھوں نے کہا ہے کہ دولت اسلامیہ اب عراق اور شام کے تقریباً 20 سے 25 فیصد آبادی والے علاقوں میں آزادانہ طور پر کام نہیں کر سکتی جیسے کے پہلے کر سکتی تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption دولتِ اسلامیہ تیل کی فروخت سے آمدن حاصل کرتی ہے

اِن سب کے باوجود دولت اسلامیہ حکمت عملی کے حساب سے دیگر علاقوں پر قبضہ کرنے کے قابل ہوگئی ہے، جس میں عراقی صوبے انبار کا شہر رمادی اور شام کے صوبے حمص کا شہر پیلمائرا شامل ہیں۔

سٹارک کا کہنا ہے کہ باوجود اِس کے کہ اِن کی آمدنی کروڑوں ڈالر میں ہے، دولت اسلامیہ دباؤ میں آ رہی ہے اور وہ آمدنی کے نئے ذرائع تلاش کر رہی ہے، جس میں ’زراعت پر اضافی ٹیکس اور رقہ کے عوام کے لیے تیل کی قیمتوں میں اضافہ شامل ہے۔‘

سٹارک کے مطابق یہ اپنے جنگجوؤں کی تنخواہوں میں بھی کمی کر رہے ہیں، جو اوسطاً 300 سے 400 امریکی ڈالر تھی۔‘

اسی بارے میں