ووکس ویگن کا ’سلسلہ وار خرابیوں‘ کا اعتراف

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption ہانز ڈیٹر پوچ کا کہنا ہے کہ کسی بھی کاروبار میں قانونی اور اخلاقی حدود کو عبور کرنے کا جواز نہیں دیا جا سکتا

جرمنی کے کار ساز ادارے ووکس ویگن کے چیئرمین کا کہنا ہے کہ گاڑیوں میں مضر صحت گیسوں کے اخراج کا سکینڈل سلسلہ وار خرابیوں کی وجہ سے سامنے آیا ہے اور اب ان کی اولین ترجیح اعتماد واپس بحال کرنا ہے۔

ایک نیوز کانفرنس سے بات کرتے ہوئے ہانز ڈیٹر پوچ کا کہنا تھا کہ ’ہم یہاں کسی ایک غلطی کی بجائے سلسلہ وار خرابیوں کی بات کر رہے ہیں۔‘

ووکس ویگن کو سکینڈل کے بعد خسارے کا سامنا

’ووکس ویگن سکینڈل سے جرمنی کی ساکھ متاثر نہیں ہوگی‘

ان کا کہنا ہے کہ ’ووکس ویگن اس سکینڈل کے ذمہ دار کو تلاش کرنے میں بالکل بھی لاپروائی نہیں دکھائے گا۔‘

ووکس ویگن کے چیف ایگزیکٹیو میتھیس مِلر کا کہنا ہے کہ ’یہ لڑائی ہر خریدار کے لیے ہے۔‘

تاہم میتھیس مِلر نے یہ بھی کہا ہے کہ اس سکینڈل کے نتیجے میں ان کی فروخت میں کوئی بہت بڑی کمی نہیں آئی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ووکس ویگن مستقبل میں ’ریئل لائف‘ تجزیہ کرے گا جسے غیر جانبدارانہ طور پر بھی چیک کروایا جائے گا

گذشتہ ستمبر میں امریکی حکام کو معلوم ہوا تھا کہ ووکس ویگن کی ڈیزل سے چلنے والی بعض گاڑیوں میں ایسا آلہ نصب کیا گیا ہے جو گاڑی کے اخراج میں گھپلا کر کے اسے کم دکھاتا ہے۔

کمپنی کا کہنا ہے کہ یہ مسلہ اس وقت شروع ہوا جب ووکس ویگن نے بڑے پیمانے پر ڈیزل سے چلنے والی گاڑیوں کو سنہ 2005 میں امریکہ میں متعارف کروانے کا فیصلہ کیا، لیکن ان کے لیے اس ملک میں بروقت اخراج کی مقررہ حد تک پہنچنا ناممکن ثابت ہوا۔

میتھیس ملر نے بتایا کہ لاکھوں متاثرہ گاڑیوں کی مرمت کرنا آسان اور کم قیمت تھا لیکن وہ ممکن نہیں تھا کیونکہ جس وقت یہ گاڑیاں بنائی گئیں اس وقت ان کی مرمت کرنے والی ٹیکنالوجی میسر نہیں تھی۔ کمپنی کو اس وقت اس مسئلے کے بارے میں علم نہیں تھا۔

ووکس ویگن مستقبل میں ’ریئل لائف‘ تجزیہ کرے گا جسے غیر جانبدارانہ طور پر بھی چیک کروایا جائے گا۔

ہانز ڈیٹر پوچ کا کہنا ہے کہ ’کسی بھی کاروبار میں قانونی اور اخلاقی حدود کو عبور کرنے کا جواز نہیں دیا جا سکتا۔‘

واضح رہے کہ دنیا بھر میں اس آلے کی وجہ سے متاثر ہونے والی گاڑیوں کی تعداد ایک کروڑ دس لاکھ ہے۔

اسی بارے میں