سعودی عرب پر یمن میں سکولوں کو نشانہ بنانے کا الزام

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption یمن میں جاری تنازع میں اب تک اندازاً چھ ہزار افراد مارے جا چکے ہیں

حقوقِ انسانی کی عالمی تنظیم ایمنیسٹی انٹرنیشنل نے سعودی عرب اور اس کے اتحادیوں پر یمن میں عسکری کارروائیوں کے دوران سکولوں کو دانستہ طور پر نشانہ بنانے کا الزام عائد کیا ہے۔

ایمینٹسی کا کہنا ہے کہ رواں برس مارچ سے جب سعودی قیادت میں عسکری اتحاد نے یمن پر فضائی حملے شروع کیے، ایک ہزار سکولوں کو نشانہ بنایا جا چکا ہے۔

’سعودی عرب کو دیے ہتھیاروں کی تحقیقات ضروری‘

سعودی عرب کو امریکی اسلحہ فروخت کرنے کی منظوری

تنظیم کے مطابق ان سکولوں میں سے تقریباً 250 تو مکمل طور پر تباہ ہو چکے ہیں۔

یمن میں جاری تنازع میں حوثی باغیوں کے خلاف عسکری مہم کے دوران اب تک اندازاً چھ ہزار افراد مارے جا چکے ہیں۔

سعودی عرب فضائی حملوں میں شہری آبادی کو نشانہ بنانے کے الزامات کی تردید کرتا رہا ہے۔

گذشتہ ماہ برطانوی وزیرِ خارجہ فلپ ہیمنڈ نے بھی مطالبہ کیا تھا کہ یمن میں سعودی عرب کے فضائی حملوں کی تحقیقات کی جانی چاہیے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption سعودی عرب فضائی حملوں میں شہری آبادی کو نشانہ بنانے کے الزامات کی تردید کرتا رہا ہے

ان کا کہنا تھا کہ ’یقیناً صرف (سعودی) تردید کافی نہیں، ہمیں باقاعدہ تحقیقات کرنی ہوں گی۔‘

ایک نئی رپورٹ میں ایمینسٹی نے امریکہ اور برطانیہ پر پھر زور دیا ہے کہ وہ سعودی عرب کو ہتھیاروں کی فروخت کا عمل معطل کر دیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ ہتھیار یمن میں عالمی قوانین کی صریح خلاف ورزیوں میں استعمال ہو رہے ہیں۔

خیال رہے کہ سعودی عرب امریکی اسلحے کا سب سے بڑا خریدار ہے اور امریکی محکمہ خارجہ نے گذشتہ ماہ ہی سعودی عرب کو تقریباً سوا ارب ڈالر مالیت کے بم فروخت کرنے کی منظوری دے دی ہے۔

1.29 ارب ڈالر مالیت کے بم فروخت کرنے کی منظوری ایسے وقت دی گئی ہے جب سعودی عرب کے یمن میں حوثی باغیوں پر فضائی حملے جاری ہیں۔

سعودی عرب کی قیادت میں یمن میں حوثی باغیوں پر حملوں پر خاصی تنقید بھی کی جا رہی ہے کیونکہ ان حملوں میں عام شہری بھی ہلاک ہوئے ہیں۔

اسی بارے میں